مذہبی بنیاد پر کوٹہ نہیں: عدالت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے لئے کوٹہ مختص کرنے کی ریاستی حکومت کی کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔ گزشتہ جولائی میں ریاستی حکومت نے تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں غریب مسلمانوں کے لئے پانچ فیصد کوٹہ مختص کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے خلاف عدالت میں اپیل کی گئی تھی۔ ملک میں مذہب کی بنیاد پر نوکریوں میں کوٹہ مختص کرنے کی یہ پہلی کوشش تھی۔ بھارت میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والی نچلی ذاتوں کے لئے نوکریوں میں پہلے سے ہی کوٹہ مختص ہے جس کا فائدہ مسلمانوں کے نچلے طبقات کو ہوتا رہا ہے۔ یہ کوٹہ لگ بھگ ایک عشرے قبل وزیراعظم وشواناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت نے منڈل کمیشن کی سفارشت پر کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آندھر پردیش کی حکومت کو مسلمانوں کے لئے ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں کوٹہ مختص کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے پسماندہ طبقوں سے متعلق کمِشن سے رائے لینی چاہئے تھی۔ بھارت میں سخت گیر موقف رکھنے والی ہندو تنظیموں نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا تھا اور عدالت کے سامنے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ملک کے آئین میں مذہب کی بنیاد پر کوٹہ مختص نہیں کیا جاسکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||