مسلم خاندانی منصوبہ بندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر قلبِ صادق نے کہا ہے کہ انہوں نے بورڈ کے اگلے سالانہ اجلاس میں خاندانی منصوبہ بندی اور اس سے متعلق موضوعات پر بحث کا مطالبہ کیا ہے ۔ قلبِ صادق نے بی بی سی ہندی سروس کے مانک گپتا کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ انہوں نے بورڈ کے صدر کے نام ایک خط لکھ کر اس سلسلے میں بحث کی درخواست کی ہے۔ بورڈ کا اگلا اجلاس دسمبر میں ہوگا۔ قلب صادق کا کہنا تھا کہ جب مسلم ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی کی اجازت ہے اور ایران جیسے ملک میں بھی اسے نافذ کیا گیا ہے تو پھر بھارت کے مسلمانوں میں اس سلسلے میں بیداری پیدا کیوں نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے اعدادو شمار نے ان کے ہوش اڑا دیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مسلمانوں کی تعداد اس طرح بڑھتی رہی تو غریبی اور بیماریاں بڑھیں گی‘۔ قلب صادق نے کہا کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کی آبادی روکنے کا نہیں بلکہ غریب اور بیمار مسلمانوں کی آبادی روکنے کا ہے انہوں نے سوال اٹھایا کہ بچوں کے پیدا ہو کر مر جانے سے کیا بہتر نہیں کہ بچے پیدا ہی نہ ہوں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر تمام علماء اس مہم میں شرکت کریں تو اس کا خاطر خواہ اثر ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||