BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 June, 2004, 15:47 GMT 20:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لوک سبھامیں زیادہ مسلم نمائندگی

News image
1980 کے انتخابات میں 46 مسلم ارکان پارلیمان منتخب ہوۓ تھے۔
ہندوستان میں چودہویں لوک سبھا کے انتخابات میں مسلمانوں کی نمائندگی میں تیرہویں لوک سبھا کے مقابلے قدرے اضافہ ہواہے۔ پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں کل 543 نشستیں ہیں جس میں اس بار مسلم اراکین کی تعداد 36 ہے جبکہ 1999 کے انتخابات میں انکی تعداد 23 تھی۔

پچھلی مرتبہ کی طرح اس بار بھی مختلف حلقوں سے سب سے زیادہ کانگریس کے دس مسلم امیدوار کامیاب ہوۓ ہیں جبکہ ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی کے سات بائیں بازو کے پانچ اور بی ایس پی کے چار اور لالو پرساد کی آرجے ڈی کے تین امیدوار منتخب ہوکر لوک سبھا پہنچے ہیں جبکہ دیگر مسلم ارکان پارلیمان کا تعلق مختلف علاقائی جماعتوں سے ہے۔

ملک کی شمالی ریاست اتر پردیش آبادی کے تناسب سے سب سے بڑی ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ 9 مسلم امیدوار منتخب ہوۓ ہیں دوسرے نمبر پر ریاست مغربی بنگال ہے جہاں سے پانچ لوک سبھا رکن منتخب ہو کر آۓ ہیں جبکہ بہار اور کیرالہ سے تین تین مسلم ارکان منتخب ہوکر لوک سبھا پہنچے ہیں باقی ماندہ کا تعلق دیگر علاقوں سے ہے۔

چھتیس کامیاب امیدواروں کے علاوہ سولہ مسلم امیدوار ایسے ہیں جو دوسرے نمبر پر رہے ہیں جس میں سی کے جعفر شریف، طارق انور، نور بانو، اکبر احمد ڈنپی جیسے اہم لیڈر شامل ہیں جو ماضی میں کئی بار کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔

دوسرے نمبر پر رہنے والے کچھ امیدواروں کا تعلق سابق حکمراں این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ سے بھی ہے جن میں عارف محمد خان اور سلطان احمد کے نام قابل ذکر ہیں این ڈی اے نے انتخابات میں کیء مسلم امیدواروں کو کھڑا کیا تھا لیکن اسکے صرف ایک امیدوار پی پی کویا ہی لکشدیپ سے کامیاب ہو سکے جنہوں نے موجودہ مرکزی وزیر پی ایم سعید کو شکست دی تھی۔

1999 کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں مجموعی طور پر مسلمانوں کی آبادی بارہ فیصد سے کچھ زیادہ ہے اس طرح ایک تخمینے کے مطابق ملک میں تقریبا چودہ کروڑ مسلم آباد ہیں لیکن آبادی کے اس تناسب سے مقننہ میں انکی نمائندگی کبھی نہیں ہو سکی اور فی الوقت لوک سبھا میں مسلم نمائندگی ساڑھے چھ فیصد ہے جو آبادی کے تناسب سے نصف ہے۔

1952 میں ملک کے پہلے انتخابات میں بھی 36 مسلم امیدوار کامیاب ہوکر لوک سبھا پہنچے تھے۔ لیکن سب سے زیادہ تعداد تھی 1980 کے انتخابات میں جب 46 مسلم ارکان پارلیمان منتخب ہوۓ تھے اور پھر بعد میں 1984 کے الیکشن میں 41 کا انتخاب ہوا تھا۔

چودہویں لوک سبھا میں ملک کی صرف گیارہ ریاستوں سے ہی مسلم نمائندگان پارلیان پہنچے ہیں جبکہ گجرات، مدھیہ پردیش، اڑیسہ، پنجاب اور ہریانہ جیسی بڑی ریاستوں سے کوئی بھی نمائندہ منتخب نہیں ہو سکا ہے جہاں کئی علاقوں میں کافی مسلم آباد ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے نزدیک اسکی کئی وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ کم دیتی ہیں انک لئے سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر کس حلقے میں کون سا امیدوار کامیاب ہوگا ۔

سیاسی تجزیہ کار اور مسلم امور کے ماہر سید شہاب الدین کا کہنا ہےکہ سیاسی جماعتیں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ اس خوف سے نہیں دیتی ہیں کیونکہ وہ حلقے میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر راۓ دہندگان کا ووٹ مسلم امیدوار کے حق میں کرنے میں شاید کامیاب نہیں ہو پاتی ہیں لیکن اکثر علاقوں میں مسلم سیکولرزم کے نام پرغیر مسلم کو ووٹ دیتے ہیں۔

کم مسلم امیدواروں کے جیتنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان حلقوں میں جہاں مسلم راۓ دہندگان کی تعداد زیادہ ہے تقریبا سبھی جماعتیں مسلم امیدوار کھڑا کرتی ہیں اور ووٹ تقسیم ہونے کے نتیجے میں بازی تیسرے کے ہاتھ لگتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد