’شادی سے پہلے سیکس گناہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی معروف ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا نے خود سےمنسوب کیے جانے والے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ شادی سے پہلے جنسی عمل کو برا نہیں سمجھتیں۔ انہوں نے کہا کہ دِلّی میں ان کی طرف سے دیے گئے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نےکہا اسلام میں شادی سے پہلے سیکس گناہ ہے جو اللہ معاف نہیں کرتا۔ دریں اثناء ثانیہ مرزا کی ریاست آندھرا پردیش میں ان کے خلاف مظاہرے ہوئے اور ان کے پتلے جلائے گئے۔ ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سوئم سیوکھ سنگھ کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ثانیہ مرزا جیسے نوجوان ستاروں کو نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہونا چاہیے اور انہیں اپنے آپ کو باوقار انداز میں پیش کرنا چاہیے۔ ثانیہ مرزا سے منسوب بیان میں کہا گیا تھا کہ سیکس چاہے شادی سے پہلے ہو یا بعد میں احتیاط ضروری ہے۔ بھارت میں ٹینس کی وجہ سے شہرت پانے والی مرزا پہلی بار کسی تنازعہ کا موضوع نہیں بنیں۔ حال ہی میں کولکتہ میں ایک ٹینس ٹورنامنٹ کے دوران اس خدشے کے تحت کہ ان کے کھیل کے لباس پر اعتراض کرنے والی ایک اسلامی تنظیم ان کا میچ رکوانے کی کوشش کرے گی، سٹیڈیم میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ حیدرآباد میں جاری ہونے والے ایک بیان میں ثانیہ مرزا نے کہا کہ شادی سے پہلے سیکس کو جائز نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مرزا نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ ان سے غلط بیانات منسوب کر کے ان کے بارے میں غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس سے پہلے اپنے کھیل کے لباس پر اٹھنے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وہ چار انچ کی بھی سکرٹ پہنیں یہ ان کا فیصلہ ہے اور کسی کو اس سے غرض نہیں ہونی چاہیے۔ | اسی بارے میں بہت ہی خوش ہوں ۔ ثانیہ مرزا 20 January, 2005 | انڈیا ثانیہ مرزا کے لیے سخت سکیورٹی 17 September, 2005 | انڈیا ثانیہ مداحوں کے دباؤ میں21 June, 2005 | کھیل ومبلڈن: ثانیہ مرزاہارگئیں23 June, 2005 | کھیل ثانیہ مرزا شاراپووا سے ہار گئیں04 September, 2005 | کھیل ’ کھیلو گے کودو گے بنو گے نواب‘11 September, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||