’ کھیلو گے کودو گے بنو گے نواب‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی کرکٹ ٹیم ورلڈ کرکٹ رینکنگ میں دوسری ٹیموں سے بھلے ہی پیچھے ہو لیکن بھارتی کرکٹر دولت کمانے میں سبھی کھلاڑیوں سے آگے ہیں۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کا ایک کھلاڑی ایک سیزن میں اوسطاً چھ ٹیسٹ میچ اور تیس ایک روزہ میچ کھیلتا ہے اور اسے فیس کے طور پر قریباً سالانہ ساٹھ لاکھ روپے ملتے ہیں لیکن یہ رقم اشتہاری کمپنیوں کی جانب سے ملنے والی رقم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ پیسہ کمانے والے کھلاڑیوں میں سب سے بڑا نام سٹار بلے باز سچن تندولکر کا ہے۔ تندولکر ایک اشتہار میں کام کرنے کے لیے دو سے تین کروڑ روپے لیتے ہیں جبکہ ان کی سالانہ آمدنی پندرہ کروڑ روپے تک بتائی جاتی ہے۔ تندولکر اب تک اشتہاروں میں کام کر کے ایک ارب روپے کما چکے ہیں۔ راہول ڈراوڈ، سارو گنگولی اور وریندر سہواگ بھی اشتہاری کمپنیوں کے لیے کام کر کے سالانہ سات سے بارہ کروڑ روپے کما رہے ہیں۔ بھارتی ٹیم کے نوجوان ستارے محمد کیف، یوراج سنگھ اور عرفان پٹھان بھی اسی مد میں سالانہ چار کروڑ روپے تک کما لیتے ہیں۔
لیکن اب کرکٹروں کی خراب کارکردگی اور دیگر کھیلوں میں نئے کھلاڑیوں کی آمد سے اب اشتہاروں کی دنیا میں بھی کچھ نئے ستارے سامنے آ رہے ہیں۔ ان ستاروں میں سب سے بڑا نام ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا کا ہے۔ یہ نوعمر کھلاڑی دو برس کے دوران دو کروڑ روپے سے زیادہ رقم کما چکی ہیں۔ اس وقت وہ ایک اشتہار میں کام کرنے کے لیے پچاس لاکھ روپے لیتی ہیں اور یو ایس اوپن میں اچھی کارکردگی کے بعد ان کی مانگ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی مرد ٹینس ستارے مہیش بھوپتی اور لیئندر پیس بھی کروڑپتی کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اسی طرح گولف کے کھیل میں ارجن اتوال اور جیوتی رندھاوا جیسے گولفر بھی کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ کھلاڑیوں کے لیے اشتہارات میں کام کرنا ایک بڑا بزنس بن چکا ہے۔ کوئی بھی کھلاڑی انفرادی طور پر جتنا کمیاب ہوتا ہے اسے اتنے ہی زیادہ اشتہارات ملتے ہیں اور اسی حساب سے اس کی فیس بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||