BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 January, 2005, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہت ہی خوش ہوں ۔ ثانیہ مرزا

ثانیہ مرزا دوسرے راونڈ میں پہنچ گئی ہیں
ثانیہ مرزا دوسرے راونڈ میں پہنچ گئی ہیں
ہندوستان کے شہر حیدرآباد کی 18 سالہ ثانیہ مرزا نے آسٹریلین اوپن کے دوسرے راؤنڈ میں ہنگری کی پیٹر منڈولا کو شکست دے کر اپنے ملک کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک سنہرا باب رقم کیا ہے۔

اس سے قبل کسی ہندوستانی خاتون کھلاڑی نے یہ کارنامہ انجام نہیں دیا تھا۔ جمعہ کے روز ثانیہ کا مقابلہ ٹینیس اسٹار سرینہ ولیمز سے ہوگا۔

ثانیہ مرزا اس وقت آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں بہت خوش ہیں۔ انہوں نے بی بی سے بات چیت میں بتایا کہ انہیں یہ توقع تھی کہ وہ یہ میچ جیت لیں گی لیکن اتنی آسانی سے جیتیں گي یہ سوچا بھی نہیں تھا۔

انہوں نے منڈوالا کو 2- 6 ، 1- 6 سے شکست دی ہے ۔ ثانیہ کو کھیل کی ابتدا میں کچھ گھبراہٹ ہوئی تھی لیکن پھر انہوں نے منڈولا کی خامیوں کو سمجھ لیا۔ جوابی وار کرنا ان کے لیے مشکل نہیں تھا اور بالاخر انکے زور دار شاٹس ان کے کام آئے۔

اپنی فتح پر انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ ’میرے لیے سیرینا کے ساتھ کھیلنا ایک خواب تھا لیکن میری خوشی کا ٹھکانا نہیں ہے کہ عین عید کے روز مجھے میرے خواب کی تعبیر ملے گي۔‘

ثانیہ اپنے والدین کی پہلی بیٹی ہیں ۔ ان کی چھوٹی بہن انعم ہیں ۔ والد عمران کا ذاتی پرنٹنگ پریس ہے۔ ثانیہ کے والدین حج کے لیے سعودی عرب کی زیارت پر گئے ہوئے ہیں۔

News image
تینونس کی کھلاڑی سلیمہ سفر

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے چھ سال کی عمر سے ٹینس کھیلنا شروع کیا تھا۔ جب انہوں نے پہلی بار اسکول میں ٹینس کھیلا تو ان کے استاد نے ان کے والد سے کہا کہ انہیں اس بچی کے شاٹس دیکھ کر حیرت ہو رہی ہے اور اس بچی میں خداداد صلاحیت ہے۔ ان کےوالدین نے اسے سمجھ لیا اور اپنی بچی کو انہوں نے ٹینس کھیلاڑی بنانے کا فیصلہ کر لیا۔

ثانیہ عام طالبات کی طرح شرارتی بھی تھیں۔ لیکن روزانہ صبح اور شام چار گھنٹے ٹینیس کھیلنے کی مشق ضرور کرتی تھیں۔گزشتہ دو برس سے وہ آسٹریلین اوپن میں حصہ لینے کے لیے تیاری کر رہی تھیں۔ پریکٹس کے لیے وہ اکثر وطن سے باہر جاتی ہیں اور سال میں تقریبا چھ ماہ ملک سے باہر رہتی ہیں۔

ان کے والد اور کبھی ان کی والدہ ان کے ہمراہ ہوتی ہیں۔

ثانیہ کہتی ہیں کہ آ گے کیا ہوگا کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن یہاں تک پہنچنے میں ہی ان کی کامیابی ہے۔ وہ پر جوش ہیں اور پر امید بھی ۔ وہ کتی ہیں ’تیاری کر رہی ہوں اور یہ گیم پر منحصر ہوگا کہ نتائج کیا ہوں گے۔ والدین اور کالج کے اساتذہ کی دعایئں میرے ساتھ ہیں۔‘

جنوبی شہر حیدرآباد میں اظہرالدین کے بعد اب ثانیہ مرزا دوسرا جگمگاتا ستارہ بن چکی ہیں۔ آسٹریلیا میں ان کی اس فتح سے ورلڈ ٹینس اسوسی ایشن میں ان کی ’رینکنگ‘ 130 ہو گئی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد