ثانیہ مداحوں کے دباؤ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ وہ کرسکتی ہیں ان کے مداح اس سے کہیں زیادہ توقعات کرتے ہیں۔ لیکن اس بارے میں انہوں نے سوال کیا کہ، کیا یہ مناسب ہے؟ خود ہی جواب میں کہا کہ نہیں ، لیکن وہ کہتی ہیں کہ وہ اس کے لیے زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتیں۔ انیس سالہ ثانیہ اپنے ہی ملک کے شہر حیدرآباد میں گزشتہ فروری میں ہونے والا ٹورنامنٹ جیت کر سپرسٹار بن گئیں تھیں۔ اس جیت سے انہیں تاریخ میں ’ڈبلیو ٹی اے ٹائٹل‘ جیتنے والی پہلی بھارتی خاتون کھلاڑی کا درجہ حاصل ہوا۔ اس بڑی جیت کے بعد آسٹریلوی اوپن کے تیسرے راؤنڈ میں پہنچنے کا انہیں اعزاز بھی حاصل ہوا جو بھی ان کے ملک کے لیے کسی کھلاڑی کے لیے پہلا موقع تھا۔ بھارت میں آج کل اپنی زندگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب بھارتی ٹینس سپرسٹار نے کہا کہ ’کہیں بھی باہر جانے کے لیے سیکورٹی کی ضرورت پڑتی ہے‘۔ ’اسے یوں کہہ لیجیے کہ یہ بڑا مشکل ہے کیونکہ بھارت کے لوگوں نے اس طرح کے بڑے کھیل میں کسی خاتون کو اتنا اچھا کھیلتے نہیں دیکھا اس لیے شاید وہ زیادہ پرجوش ہوں‘۔ اپنے ملک میں ملنے والی پذیرائی سے ثانیہ خاصی مطمئن اور خوش لگ رہی تھیں لیکن یہ بھی واضح تھا کہ دباؤ ان کے سر سے کوئی دور نہیں۔ کیا اس سے وہ بے سکون ہوتی ہیں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ یہ تو ثانیہ مرزا بھی پہلے سے جانتی ہیں کہ بھارت چاہتا ہے کہ وہ وہ سویتلانہ کزنی توسو وو‘ کو شکست دیں جس طرح انہیں دبئی میں ہرایا تھا۔ لیکن بھارتی سپرسٹار کو یہ بھی معلوم ہے کہ ان کی روسی حریف کا حال ہی میں اپنی ایڑی کا زخم ٹھیک ہوگیا ہے اور وہ خاصی ذہانت سے بھی کھیلتی ہیں۔ ایسے میں ثانیہ کہتی ہیں کہ ’ جب سے میں نے انہیں ایک بار ہرایا ہے مداح چاہتے ہیں کہ دوبارہ بھی ایسا کروں لیکن میرے پاس بھی ہارنے کے لیے کچھ نہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا مقصد تھا کہ پہلا مرحلا پار کروں اور ایسا کرنے پر وہ بہت خوش ہیں۔ بھارتی سپر سٹار ثانیہ مرزا اگر بدھ کو ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئیں تو انہیں یقین ہے کہ وومبلڈن سے خاموشی سے کوچ کرنا پڑے گا۔ اس بارے میں استفسار پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ میں اپنا فون نمبر بھی تبدیل کرلوں گی تاکہ کوئی فون بھی نہ کرسکے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||