بھارتی مسلمان: ماڈل نکاح نامہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں مسلمانوں کے ایک اہم ادارے مسلم پرسنل لاء بورڈ نے عمومی نفاذ کے لیے ایک ماڈل نکاح نامہ جاری کیا ہے اور توقع کی ہے کہ اس کے استعمال سے بہت سی سماجی مشکلات ختم ہو جائیں گی۔ بورڈ نے اپنی دو روزہ کانفرنس میں بابری مسجد کی بازیابی اور اصلاح معاشرہ جیسے مسائل پر بھی پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔ مسلم معاشرے میں اصلاح کی غرض سے بورڈ ایک عرصے سے شادی، نکاح اور طلاق کے معاملات میں اصلاحات کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ بھوپال میں بورڈ کی دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر ماڈل نکاح نامے کا اجراء اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ نئے نکاح نامے کے استعمال سے معاشرے میں پھیلی بہت سی برائیوں پر قابو پایا جا سکے گا۔ اس نکاح نامے میں زوجین اور گھر والوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جو حقوق اور ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں وہ انہیں بخوبی نبھائیں۔ جہیز اور باراتیوں پر خرچ کے لیے رقم طلب کرنے کو روکا گیا ہے۔ بیوی کو اس کے مہر کی ادائیگی پر زور دیا گيا ہے۔ اس میں نکاح نامے کے تکنیکی امور کا بھی ذکر ہے جیسے رجسٹریشن اورگواہوں کا معاملہ وغیرہ۔ لیکن سب سے اہم ایک اقرار نامہ ہے جس کے مطابق میاں اور بیوی کو عہد کرنا ہوگا کہ وہ اپنی زندگی شریعت کے مطابق گزاریں گے اور اختلافات کی صورت میں یک طرفہ فیصلہ نہ کریں بلکہ کسی بزرگ، بوڑد یا مستند ادارے سے رابطہ کریں یا قاضی کو حکم بنائیں تا کہ شریعت کے مطابق تصفیہ ہوسکے۔ اس نکاح نامے میں قاضی کو بھی بہت سی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ تمام شرعی امور کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ شادی دوسری ہے یا تیسری؟ اور کیا ایسی صورت میں شوہر بیوی کے ساتھ انصاف کر سکے گا۔ بورڈ نے مسلمانوں کو ایک ہی بار میں تین طلاقوں سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ حال میں بعض امور پر عدالت نے پرسنل لاء میں مداخلت کی تھی اور بورڈ اس سے نمٹنے کے لیے ایک لیگل کمیٹی بنانے پر غور کر رہا ہے۔ بورڈ نے مسلمانوں کی اصلاح کے لیے اصلاح معاشرہ تحریک چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلمانوں کا ایک روایتی ادارہ ہے اور بعض مذہبی تنظیمیں اور ادارے اس کے ارکان کو نامزد کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے معاملات میں عام طور پر اسی ادارے سے رجوع کیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||