مسلم کوٹہ کیس، سماعت ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہائی کورٹ کے بنچ نے بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں اس مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی ہے جس کا تعلق ملازمت اور تعلیم کے شعبوں میں مسلمانوں کے لیے پانچ فیصد نشستیں مختص کرنا ہے۔ بنچ نے دو گھنٹے تک فریقین کے دلائل سنے اور اس کے بعد آئندہ سماعت کے لیے اگست کی دو تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت ایک سی کئی درخواستوں پر دلائل سن رہی ہے اور درخواست گزاروں میں دائیں بازو کی جماعت وشو ہندو پریشد کے ایک رہنما بھی شامل ہیں۔ ان درخواستوں میں کہا گیا ہے بھارتی آئین میں مذھب کی بنیاد پر کسی کے لیے نہ کوٹہ مقرر ہے اور نہ کوئی تخصیص ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ معاشی طور پر بدحال مسلمانوں کے لیے ملازمتوں اور تعلیم میں پانچ فیصد کوٹہ مقرر کرنے میں اسے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔ ادھر منگل کو مسلمانوں کے کئی اداروں اور افراد کی طرف سے ہائی کورٹ میں اس تخصیص کے حق میں کئی درخواستیں پیش کی گئی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||