مسلم پرسنل بورڈ تقسیم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں مسلمانوں کا ایک اہم ادارہ آل انڈیا مسلم بورڈ اختلافات کے سبب تقسیم ہو گیا ہے ۔ بریلوي مسلک کے بعض علما نے ایک نۓ پرسنل بورڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے ۔ دہلی میں ایک اجلاس کے بعد اتحادِ ملت کانفرنس کے رہنما مولانا محمد توقیر رضا نے کہا کہ مسلم پرسنل بورڈ جس مقصد کے لۓ قائم کیا گیا تھا وہ اسے پورا کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ مولانا رضا نے کہا کہ حاليہ برسوں میں بورڈ کے اقدامات ، اعلانات و بیانات شریعت کو مجروح کرنے اور ملت کی رسوائی و ذلت کا سبب بن گئے۔ مولانا نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلم عوام بورڈ سے بیزار ی اور اس پر بےاعتمادی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ مولانا توقیر رضا نے اس موقع پر نئے بورڈ کے قیام کی تفصیلات پیش کیں۔نئے بورڈ کا نام بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہی رکھا گیا ہے ۔ بس اس میں لفظ ’جدید‘ کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ مولانا توقیر نے دعویٰ کیا کہ علماء اور دیگر رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد اصل بورڈ کے طرز عمل سے بد ظن ہے اور وہ جلد ہی نئے بورڈ میں شامل ہونگے۔ اصل بورڈ کے ایک سابق سینئر رکن سید شہاب الدین نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں بریلوی مسلک کے مسلمانوں کی تعداد کی مناسبت سے بورڈ میں ان کی نمائندگی نسبتا کم تھی لیکن اس کے لئے ایک علیحدہ بورڈ قائم کرنے کو جا ئز نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔ سید شہاب الدین نے کہا کہ اس نازک موقع پر مسلمانوں کے اتحاد سے اس طرح نہیں کھیلنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نئے بورڈ کے قیام کے پیچھے سیاست اور مصلحت دونوں کی کار فرمائی ہو سکتی ہے۔ اصل بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس نے نئے بورڈ کے قیام کو ایک سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ملک میں ایک عرصے سے یہ سازش ہو رہی تھی کہ تمام مسلمانوں کے اس اجتماعی پلیٹ فارم پر انتشار پیدا کیا جائے ۔ ایک نیا پرسنل بورڈ قائم کر کے مولانا توقیر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اور انکے ہم خیال دیگر علماء اور مشائخ اس سازش میں شریک ہیں‘۔ آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ ایک روایتی ادارہ ہے اور اس کے ارکان بعض مذہبی تنظیمیں اور ادارے نامزد کرتی ہیں - مسلمانوں کے معاملات میں عام طور پر اسی ادارے سے رجوع کیا جاتا ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسلمانوں کو تعلیمی اور معاشرتی پسماندگی سے باہر نکالنے کے لۓ کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اصلاحی اقدامات کے معاملے میں بورڈ کے ارکان ہمیشہ اختلافات کا شکار رہے ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||