BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 July, 2004, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نظام الدین اولیا: سب کے خواجہ

نظام الدین اولیاکا مزار
سینکڑوں لوگ ہر روز نظام الدین اولیا کے دربار پر حاضری دیتے ہیں
دہلی میں روشنی اور گلاب کی خوشبو سے معطر حضرت خواجہ نظام الدین کا مزار ایک انوکھا منظر پیش کرتا نظر آتا ہے۔

مزار کو جانے والی تنگ گلیوں کی دونوں جانب دوکانوں پر پھول اور مزار پر چڑھانے کے لیے چادریں سجی نظر آتی ہیں۔ انہی سجے ہوئے راستوں سے گزر کر سینکڑوں لوگ روزانہ دربار پر حاضرہوتے ہیں۔

حضرت نظام الدین کے مزار کے احاطے میں ہی حضرت امیر خسرو کا بھی مزار ہے اور عام طور پر لوگ امیر خسرو کے روزے پر حاضری دیتے ہوئے خواجہ نظام الدین کے روز پر سلام کے لیے آتے ہیں۔

درگاہ پر حاضری دینے والوں میں سے اکثر دنیا سے بے نیاز اپنی مستی میں گم، نظام الدین کے روزے پر عقیدت کے آنسُو بہاتے دکھائی دیتے ہیں۔

حضرت نظام الدین کے مزار کے ایک مجاور حسنین نظامی نے بتایا کہ ہندوستان کے علاوہ پاکستان اور پوری دنیا سے خواجہ کے چاہنے والے مزار پر حاضری دینے آتے ہیں۔

نظام الدین اولیا
دہلی کی گہما گہمی کے برعکس خواجہ نظام الدین کی درگاہ میں ایک ٹھہراؤ نظر آتا ہے
’گزشتہ سالوں کے دوران پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں جو تلخی رہی اُس کی وجہ سے پاکستان سے یہاں آنے والے زائرین میں کمی واقع ہو گئی تھی مگر اب حالات میں بہتری آنے کے باعث ایک بار پھر پاکستان سے زائرین یہاں آنا شروع ہو گئے ہیں۔‘

حسنین نظامی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مشہور قوال عزیز میاں اور غلام فرید صابری بھی خواجہ نظام الدین کے مزار پر حاضری دے چکے ہیں اور کئی دفعہ اپنے فن کا مظاہرہ کر کے خواجہ صاحب سے اپنی عقیدت کا اظہار بھی کر چکُے ہیں۔ عام دنوں میں بھی مقامی قوال اپنی عقیدت کے اظہار کے لیے نظام الدین کے روزے کے سامنے بیٹھے قوالی کرتے نظر آتے ہیں۔

نظام الدین کی درگاہ پر حاضری دینے والے ایک سِکھ عقیدت مند کولونت کوچر کا کہنا تھا کہ خواجہ نظام الدین سب کے ہیں اور اُن کو یہاں آتے ہوئے کچھ عجیب نہیں لگتا۔ ’بابا فرید کی شاعری بھی ہماری مقدس کتاب میں شامل ہے، جو اس بات کی مظہر ہےکہ ایسے لوگ سب کے لیے ہی باعث رحمت ہوتے ہیں۔‘

حضرت خواجہ نظام الدین کے خطابات میں ’محبوب الٰہی‘ اور ’سلطان المشائخ‘ قابِل ذکر ہیں۔ اور درگاہ پر موجود خدمتگار جو خود کو خواجہ صاحب کے خاندان سےہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں، حضرت خواجہ نظام الدین کو ’محبوب الٰہی‘ ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔

دہلی جیسے مصروف، بڑے اور گہما گہمی والے شہر میں واقع ہونے کے باوجود خواجہ نظام الدین کی درگاہ میں ایک ٹھہراؤ نظر آتا ہے۔ اس درگاہ میں جہاں حاضری دینے والوں میں مسلمان دعا کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے نظر آتے ہیں، وہیں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے خواجہ نظام الدین سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ اور کئی دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے اپنی نظریں نظام الدین کے روزے پر جمائے دکھائی دیتےہیں۔

درگاہ کے اندر کا منظر دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ خواجہ نظام الدین صرف مسلمانوں ہی کہ نہیں سب کے خواجہ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد