مسلم پرسنل لاء، ماڈل نکاح نامہ تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں مسلمانوں کے ایک اہم ادارے مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ماڈل نکاح نامے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم تیار شدہ مسودہ حتمی فیصلے کے لیے بورڈ کی جنرل باڈی میٹینگ میں پیش کیا جائےگا جس کے بعد ہی اس کا نفاذ ہو سکےگا۔ مسلم معاشرے میں اصلاح کی غرض سے بورڈ خاصے دنوں سے شادی، نکاح نامہ اور طلاق کے معاملے میں اصلاح کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ماڈل نکاح نامے پر بھی کافی دنوں سے بات چیت جاری تھی۔ بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس نے بی بی سی کو نئے نکاح نامے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے نفاذ سے معاشرے میں پھیلی بہت سی برائیوں پر قابو پایا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نکاح نامے کے تین حصے ہیں۔ پہلے کا تعلق قاضی سے ہے جس میں قاضی کو بہت سی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ تمام شرعی امور کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ شادی دوسری ہے یا تیسری؟ اور کیا ایسی صورت میں شوہر بیویوں کے ساتھ انصاف کر سکے گا۔ دوسرے حصے میں زوجین کے حقوق اور ان کی ذمہ داریوں کی بات کی گئي ہے۔ انہیں ہدایات دی گئی ہیں کہ جو حقوق اور ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں اسے وہ بخوبی نبھائیں گے اور اختلافات کی صورت میں بورڈ یا قاضی کو حاکم بنائیں گے۔ تیسرے حصے میں نکاح نامے کے تکنیکی امور کا ذکر ہے جیسے رجسٹریشن اورگواہوں کا معاملہ وغیرہ۔ لیکن سب سے آخر میں ایک اقرار نامہ بھی ہے جس کے مطابق میاں اور بیوی کو عہد کرنا ہوگا کہ وہ اپنی زندگی شریعت کے مطابق گزاریں گے اور اختلافات کی صورت میں کسی بھی جانب سے یکطرفہ فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے لیے انہیں کسی بزرگ، بوڑد یا مستند ادارے سے رابطہ کرنا ہوگا تا کہ تصفیہ ہو سکے۔ بورڈ نے مسلمانوں کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق سے باز رہنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں بورڈ کے سیکریٹری عبدالرحیم قریشی نے کہا کہ اسلام سے کسی کو بھی اس وقت تک خارج نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ اسلامی عقائد میں یقین رکھتا ہو۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ بیسٹ بیکری مقدمے کی اصل گواہ ظاہرہ شیخ کو شوریٰ نے جس طرح اسلام سے خارج کیا اس کی بورڈ نے تصدیق کی ہے۔ عبدالرحیم قریشی کا کہنا تھا کہ اس مسئلے پر بورڈ میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ مسلمانوں کا ایک روایتی ادارہ ہے اور بعض مذہبی تنظیمیں اور ادارے اس کے ارکان کو نامزد کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے معاملات میں عام طور پر اسی ادارے سے رجوع کیا جاتا ہے۔ گزشتہ پچاس برس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسلمانوں کو تعلیمی اور معاشرتی پسماندگی سے باہر نکالنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اصلاحی اقدامات کے معاملے میں بورڈ کے ارکان ہمیشہ اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||