BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 October, 2004, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ارکان پارلیمان پر فوجداری مقدمے
حال ہی میں مرکزی وزیر شیبو سورن کو ایسے ہی ایک مقدمے کی وجہ سے استعفیٰ دینا پڑا
حال ہی میں مرکزی وزیر شیبو سورن کو ایسے ہی ایک مقدمے کی وجہ سے استعفیٰ دینا پڑا
بھارت میں ایک غیرسرکاری ادارے کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ منتخب شدہ پانچ سو تینتالیس ارکان پارلیمان میں سے ایک چوتھائی کو بھتہ وصول کرنے، ریپ، اغوا سے لے کر قتل جیسے فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔

ملک کے قوانین کے تحت وہ لوگ انتخابات میں امیدوار نہیں ہوسکتے جن کے خلاف اس طرح کے مقدمات میں سزا سنائی گئی ہو۔ لیکن ان لوگوں پر اس طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے جن کے مقدمات کی سماعت ابھی ہورہی ہے۔

بنگلور میں واقع تحقیقی ادارے پبلِک افیئرز سنٹر کے مطالعے سے پتہ چلا کہ ایک چوتھائی ارکان پارلیمان کے خلاف ایسے مقدمے دائر کیے گئے ہیں۔ یہ ادارہ بدعنوانیوں سے پاک سیاست کے لیے کوشاں ہے۔

یہ مطالعہ سیاستدانوں کے حلفی بیانات پر مبنی ہے جو انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائے گئی تھیں۔

بھارتی سپریم کورٹ کے ایک حکم کے مطابق ملک میں تمام سیاستدانوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے قبل ایک حلفی بیان جمع کرانا پڑتا ہے کہ انہیں فوجداری کے کسی مقدمے میں سزا نہیں سنائی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم اس لیے دیا تھا تاکہ عوامی زندگی کو بدعنوانیوں سے پاک رکھا جاسکے۔

اس غیرجانبدار مطالعے سے پتہ چلا کہ جن ارکان پارلیمان پر مقدمہ چلایا جارہا ہے ان کا تعلق تمام جماعتوں سے ہے۔ تاہم اس مطالعے کے نتائج میں کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ عام طور عوام سمجھتے ہیں کہ ان کے سیاست دان اس طرح کے جرائم میں ملوث ہوسکتے ہیں۔

اس مطالعے کے نتائج ایسے وقت جاری کیے گئے ہیں جب مرکزی حکومت پر بدعنوانیوں سے متعلق قانون بنانے میں تاخیر کرنے کا الزام ہے۔ بدھ کے روز حکومت نے اس قانون کو پارلیمان میں لانے میں تاخیر کا فیصلہ کیا جس کے تحت وزیراعظم جیسے بڑے عہدوں کی تفتیش کی جاسکے گی۔

حال ہی میں صدر جمہوریہ ڈاکٹر عبدالکلام اس وقت اخباروں کی سرخیوں میں آگئے جب انہوں یہ مشورہ دیا کہ صدر کا عہدہ بھی اس قانون کے تحت لایا جائے تاکہ ملک کے اعلیٰ دفاتر میں بدعنوانیوں کو روکنے کی مہم کو اہمیت حاصل ہوسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد