BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 October, 2004, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماضی کے ’دادا‘ اب عوام کے نمائندے
ارون گولی
ارون گولی کے ذرائع آمدنی کےبارے میں سوال اٹھائے جاتے ہیں
ہندوستان میں حالیہ ریاستی انتخابات میں کاروباری مرکز ممبئی میں ماضی میں جرائم کی دنیا کے ’دادا‘ یا ڈان کی شہرت رکھنے والے ارون گولی نے کانگریس کے امیدوار کو ہرا کر اسمبلی کی سیٹ جیتی۔

ارون گولی نے اپنی ہی جماعت اکھِل بھارتیہ سینا کی نشست سے انتخاب میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کانگریس کے مدھو چون کو بارہ ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی۔

ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی کی پولیس نے ایک بار کہا تھا کہ ارون گولی جرائم کی دنیا کے بڑے ناموں میں سے ایک ہیں۔

ارون گولی کے ایک سیاسی جماعت قائم کرنے کے بعد بہت سے لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کے وسائل کا ذریعہ کیا ہے۔

ایشیا ویک میگزین کے مطابق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شہر کے سمگلر اور ممبئی اور سنگاپور میں مالی فراڈ کرنے والے ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ کانگریس اور شیو سینا کے ناراض ارکان ان کے ساتھ ہیں اور تیسری رائے ہے کہ انہیں کانگریس پارٹی بی جے پی اور شیو سینا کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

ٹیکسٹائل مِل مزدور کے بیٹے اور سکول سے بھاگ جانے والے گولی قتل اور لوٹ مار کے مختلف مقدموں میں جیل میں بھی وقت گزار چکے ہیں۔

اب وہ چار بچوں کے باپ ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک محلہ دار مسلمان لڑکی سے محبت کی شادی کی تھی۔اب ان کی بیوی آشا سیاسی زندگی میں ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔

ایشیا ویک میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی میں آشا کی قیادت میں ایک ریلی میں ساٹھ ہزار لوگوں نے شرکت کی۔

انتخاب جیتنے کے بعد گولی نے ایک بیان میں کہا کہ بہت سے لوگ ان کی جان کے دشمن ہیں لیکن ان کی سب بڑی طاقت بھی لوگوں کی حمایت ہی ہے۔

ایشیا ویک کی خبر کے مطابق گولی نے رہائی کے بعد نیا روپ دھارا اور ممبئی کی گلیوں کو جرائم سے پاک کرنے اور غریبوں کے حقوق کے لیے جدو جہد کرنے کا اعلان کیا۔

اپنے اوپر لگے الزامات کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’وہ سِسٹم کی پیداوار ہیں‘۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق گولی سکول چھوڑنے کے سات سال بعد بدنام گروہ راما نائک میں شامل ہو گئے۔ خبر کے مطابق گروہ کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد انہوں نے اپنا گینگ بنایا جس کے اب دو ہزار ارکان ہیں جو انہیں ’ڈیڈی‘ کہتے ہیں۔

ایشیا ویک کے مطابق گولی ایک سیاسی قوت بن کر ابھر رہے ہیں۔ میگزین کے مطابق گولی کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت کی ریاست مہاراشٹرا میں چار سو اور صرف ممبئی میں ایک سو چھیانوے شاخیں ہیں۔

میگزین کے مطابق گولی عوامی حمایت کے لیے ایسے طریقے استعمال کر رہے ہیں جو اس سے پہلے شیو شینا نے اختیار کیے تھے۔ خبر کے مطابق ان کے بارے خیال ہے کہ وہ کسی حد تک ممبئی میں امن و امان کی اس صورتحال کی خرابی کے ذمہ دار ہیں جسے وہ حکومت پر تنقید کا جواز بناتے ہیں۔

انتخابات سے قبل ذرائع ابلاغ میں ارون گولی کے بارے میں بہت خبریں اور تصاویر شائع ہوئیں۔ انہیں دن کے آغاز پر پوجا کرتے ہوئے اور گائے کو چارہ ڈالتے ہوئے دکھایا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد