شبہو سورین سامنے آ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے سابق وزیر شبہو سورین جو کہ گزشتہ ایک ہفتے سے روپوش تھے جمعہ کو مشرقی ریاست جھاڑکھنڈ کے صدر ریاستی دارالحکومت رانچی میں نمودار ہوئے ہیں۔ شبہو سورین اکیس جولائی سے روپوش تھے جب جھاڑکھنڈ سے پولیس کی ایک ٹیم ان کو گرفتار کے وارنٹ لے کر دہلی آئی تھی۔ سابق وفاقی وزیر پر الزام ہے کہ انہوں نے انیس سو پچھہتر میں ایک جھاڑکھنڈ میں قبائلی زمین کے تنازعے پر ہندؤں کے ہجوم کو اس حد تک مشتعل کر دیا تھا کہ اس ہجوم نے مسلمانوں پر حملہ کر کے دس مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا۔ شبہو سورین نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ سیاسی عناد کی بنیاد پر بنایا گیا ہے اور اس غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سیاسی دشمنی کی بنا پر اس مقدمے کی دوبارہ تحقیقات شروع کی ہیں۔ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے گزشتہ ہفتے حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے پارلیمان میں زبردست احتجاج کے بعد سورین کو اپنے عہدے سے استعفی دینے کے لیے کہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||