پوٹا کا خاتمہ: صدر نے دستخط کردیئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی صدر اے پی جے عبدالکلام نے انسداد دہشت گردی قانون 'پوٹا` کو ختم کرنے والے آرڈینینس پر دستخط کر دیئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی وفاقی حکومت نے اس متنازعہ قانون کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ صدر جمہوریہ کی منظوری ملنے سے پوٹا کے خاتمے کے تمام ضابطے مکمل ہو گئے ہیں۔ صدر نے پوٹا کی جگہ 1967 کے غیر قانونی سرگرمیاں رو کنے والے قانون کی منظوری دے دی ہے ۔ مرکزی حکومت نے اس قانون میں کچھ اہم تبدیلیاں کر نے کے بعد اسے صدر کو بھیجا تھا۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئی حکومت نے پرانے قانون کو نئے آرڈینینس کے طور پر پیش کیا ہے۔امکان ہے کہ اسے پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائےگا۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سابقہ بی جے پی کی حکومت نے 2002 میں پوٹا کا نفاذ کیا تھا اور اسکی مدّت 23 ستمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ پوٹا قانون کے مطابق پولیس شک و شبہ کی بنیاد پر کسی کو بھی گرفتار کر سکتی تھی ۔ عدالت کے سامنے پیش کیے بغیر ہی پولیس 30 روز تک مشکوک شخص سے دورانِ حراست پوچھ گچھ کر سکتی تھی۔ اس مرحلے میں پولیس کے سامنے دیۓ گئے بیانات عدالت میں بطور ثبوت پیش کیے جا سکتے تھے۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں اور کچھ سیاسی جماعتیں اس قانون کی مخالفت کرتی رہی تھیں۔مرکز میں حکمراں جماعت کانگریس نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے پر وہ پوٹا کو ختم کر دیگی۔ پوٹا قانون کے تحت ملک بھر میں سیکڑوں افراد کو گوفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والے لوگوں میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔ کئی بار انتقامی جذ بے کے تحت مخالف جماعت کے لیڈر بھی پوٹا کی زد میں آ چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||