BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 December, 2005, 10:31 GMT 15:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارٹی کے لیے خوبصورت ہمسفر

 خوبصورت ہمسفر
کچھ پارٹیوں میں ’جوڑے‘ کا ساتھ آنا لازمی ہوتا ہے
بھارت میں نئے سال کی آمد کا جشن منانے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ فائیو اسٹار ہوٹل، کلب ، ڈسکو سب پہلے سے ریزرو ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر تفریح کے لیے کسی ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بھی ایسا ساتھی جسے آپ کے ساتھ دیکھ کر لوگ رشک کریں۔

ہر کسی کے نصیب میں ایسا ساتھی نہیں ہوتا لیکن اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو اب یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ ممبئی میں اب ایجنسیاں ایسے خوبصورت ہمسفر کا انتظام بھی کرنے لگی ہیں جو ایسی شاندار پارٹیوں میں آپ کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ صرف شرط یہ ہے کہ آپ انہیں اس کی قیمت ادا کریں اور ان سے کسی قسم کا جسمانی تعلق نہ رکھیں ۔

شاہانہ ( نام تبدیل کیا گیا ہے ) جو خود کو شین کہلانا زیادہ پسند کرتی ہے ، باندرہ کے کالج میں پڑھتی ہے۔ نئے سال کا جشن منانے کے لیے وہ ایک ادھیڑ عمر بزنس مین کو’ایسکورٹ‘ کریں گی یعنی اس کے ساتھ ایک رنگین شام کی ہمسفر کا فریضہ سر انجام دیں گی۔ اس کام کے لیے انہیں پانچ ہزار روپے ملیں گے اور تفریح کا سارا خرچ بھی ان کا ساتھی ہی کرے گا۔ شاہانہ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے اور انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

شاہانہ عرف شین اس سے پہلے بھی پارٹیوں میں’ایسکورٹ‘ بن کر جا چکی ہے۔ اپنے ساتھیوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’وہ زیادہ تر ادھیڑ عمر کے تاجر ہوتے ہیں جو یا تو طلاق شدہ ہوتے ہیں یا پھر جو اپنی بیویوں سے علیحدہ رہتے ہیں‘۔

شین ہنس کر کہتی ہے کہ ’ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی بیویاں ہوتی ہیں لیکن وہ انہیں اپنے ساتھ لے جانا نہیں چاہتے‘۔

آج کی بھارتی سوسائٹی میں’ پیج تھری‘پارٹیوں میں ہمیشہ کسی ایک خاتون یا مرد کے ساتھ آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا ’سرکل‘ بہت چھوٹا ہے۔ پھر ایسی کئی پارٹیاں ہوتی ہیں جہاں ’جوڑے‘ کا ساتھ آنا لازمی ہوتا ہے اس لیے امیر طبقے کے بہت سے لوگ یا تو ان ایجنسیوں سے تعلق قائم کرتے ہیں یا پھر کسی نہ کسی پہچان کے ذریعہ انہیں ساتھی مل جاتا ہے ۔

شین جیسی کئی لڑکیاں اور کئی لڑکے ہیں جو ’ایسکورٹ‘ بنتے ہیں۔ حال ہی میں ایک امیر طبقہ کی خاتون نے ایک نوجوان لڑکے کو ’ایسکورٹ‘ بنایا اور اس نے اپنی اس معمر ساتھی کو بتایا کہ ’ آنٹی مجھے ایک کار لینے کی تمنا ہے اس لیے میں نے یہ کام شروع کیا ہے‘۔

’نرملا نکیتن‘ کالج آف سوشل سائنس کی وائس پرنسپل فریدہ لامبے نے اس مسئلے پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مغرب کا اثر ہم پر حاوی ہو چکا ہے۔ ’ایسکورٹ‘ بننا آج کل فیشن میں شمار ہوتا ہے‘۔

ان کا ماننا ہے کہ جب تک کوئی غلط کام نہ ہو اور جسمانی رشتہ قائم نہ رکھا جائے تب تک اس میں انہیں بھی کوئی برائی نظر نہیں آتی ہے۔ ویسے فریدہ لامبے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’اگر آپ روکنا بھی چاہیں تو بچوں کو روک نہیں سکتے کیونکہ آپ ہر وقت ان کے ساتھ نہیں گھوم سکتے ۔اس لیے بہتر ہے کہ بچوں کو گھر پر صحیح تعلیم دی جائے اور ہر طرح کی اونچ نیچ سے واقف کرایا جائے‘ ۔

اسی بارے میں
ممبئی کس کا؟
19 April, 2005 | انڈیا
ممبئی کا چور بازار
04 March, 2005 | انڈیا
غریب بھگاؤ شنگھائی بناؤ
11 January, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد