BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 April, 2005, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی کس کا؟

ممبئی
جزیرے پر بسا یہ شہر پہلے کولیوں یا مچھیروں کا تھا۔
بھارت کی تجارتی راجدھانی ممبئی کس کی ہے ؟یہاں کون رہ سکتا ہے اور کسے آنے سے روکنا ہے؟ اور کیا ایسا ہو بھی سکتا ہے؟

یہ موضوع آج کل پورے ممبئی شہر میں زیر بحث ہے ۔یکم اپریل کو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ نے اسمبلی کے ایوان میں بیان دیا کہ اب ممبئی میں مہمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور آنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیئے ۔اس بیان پر شدید رد عمل سامنے آیا اور سوائے شیوسینا اور بی جے پی کے کانگریس سمیت ہر طبقہ نے اس کی مخالفت کی ۔

وزیر اعلیٰ نے صرف اسی بیان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں باہر سے آئے لوگ وزیر بن بیٹھے ہیں دیگر ریاست سے لوگ یہاں امتحان دے کر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں اس لئے مہاراشٹرین کو جگہ نہیں مل پاتی۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سابق وزیر نواب ملک، جن کا تعلق یوپی سے ہے، کا کہنا ہے کہ دستور انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی ریاست میں جا کر رہیں ۔ صرف وہ ریاستیں جہاں دستور ہند کی دفعہ 370/371 عائد ہے وہاں بغیر اجازت رہنے جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ بھی غیر قانونی طور پر رہنے والوں کی مخالفت کرتے ہیں لیکن قانونی طور پر رہنے والوں کو یہاں سے نکالنا یا انہیں آنے سے روکنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے ۔

سرکردہ صحافی جتن دیسائی بھی وزیر اعلیٰ کی اس بات سے متفق نہیں کہ یہاں وہی لوگ آئیں جو پیسہ دے کر گھر خرید سکیں۔ ’اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہاں صرف امیر این آر آئی (N.R.I) ہی آکر رہیں۔‘ دیسائی کے مطابق اقتصادیات کا یہ اصول ہے کہ انسان پیچھے سے آگے کی جانب چلتا ہے۔ ممبئی میں لوگ گاؤں دیہاتوں سے آتے ہیں اور ممبئی سے لوگ اب یوروپی ممالک ،امریکہ جا کر آباد ہو رہے ہیں۔ دیسائی کا کہنا ہے کہ ممبئی میں باہر سے ہی نہیں مہاراشٹر کے گاؤں اور دیہاتوں سے بھی بٹی تعداد میں لوگ آتے ہیں تو کیا وزیر اعلیٰ انہیں روک سکیں گے؟

ممبئی کو تجارتی راجدھانی کس نے بنایا اور اسے بین الاقوامی حیثیت دلانے میں کس کس کی محنت شامل ہے اگر اس کا سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اگر ممبئی میں گجراتی ،مارواڑی اور پارسی جیسے تاجر نہیں ہوتے اور شمالی ہند کا مزدور طبقہ نہیں ہوتا تو شاید ممبئی کبھی اتنی ترقی نہیں کر پاتا۔

ممبئی کی تاریخ بتاتی ہے کہ جزیرے پر بسا یہ شہر پہلے کولیوں (مچھیروں ) کا تھا۔ انگریزوں کو یہ شہر پسند آیا اور انہوں نے اسے آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں کی آب و ہوا میں نمی تھی جو سوتی (کاٹن) کپڑوں کے لئے مفید ہوتی ہے اس لئے انہوں نے یہاں ملیں لگانے کا فیصلہ لیا۔ کپڑا ملوں میں کام کرنے کے لئے شمالی ہند کا مزدور طبقہ یہاں آیا۔ شمالی ہند سے آئے مزدوروں اور محنت کش طبقہ نے ممبئی میں ہر چھوٹے بڑے کام کرنے شروع کئے۔ ملوں کے بند ہونے کے بعد بھی یہاں کے لوگوں نے ٹیکسی کا کاروبار شروع کیا۔ آج یہ بھنگار کے کاروبار میں ہیں ۔ان کی لانڈریاں ہیں یہ سبزی بیچتے ہیں چنا اور مچھلی بھی فروخت کرتے ہیں ۔بنگال اور بہار سے آئے مسلمان زری کا کام کرتے ہیں۔ سرکاری نوکریوں میں یہ اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں اسی لئے اکثر شیوسینا اس کی مخالفت کرتی رہی ہے ۔ ممبئی اور تھانے کے علاقے میں میں تیس لاکھ کے قریب شمالی ہند کے لوگ آباد ہیں۔

ممبئی کو تجارتی راجدھانی بنانے میں بہت بڑا ہاتھ گجراتی اور پارسی طبقہ کا ہے۔گجرات کی سرحد مہاراشٹر سے ملی ہوئی ہے اس لئے گجراتیوں نے ممبئی آنے کو ترجیح دی۔ مفت لال گروپ، ٹھاکرسی گروپ، کھٹاؤ مل اور ایسی کئی ملیں گجراتیوں کی ہیں۔ آج بھی شیئر بازار پر گجراتیوں کا قبضہ ہے اور شہر کی تجارت اور اس کی اقتصادیت کو اتھل پتھل کرنے کی ان میں طاقت ہے۔ کئی بڑے تجارتی ادارے ان کی ملکیت ہیں۔

گجراتیوں نے صرف تجارت ہی نہیں کی بلکہ انہوں نے یہاں کئی سماجی اور فلاحی کام بھی کئے۔ گوکل داس اسپتال (جی ٹی ) ناناوتی اسپتال ،ہرکشن داس اسپتال گجراتیوں کے ہیں۔ ان کے کئی خیراتی ٹرسٹ ہیں۔

پارسیوں نے بھی اس شہر کو بنانے میں کافی محنت کی ہے۔ بڑے تجارتی ادارے اور جے جے اسپتال انہی کی دین ہے۔ عیسائیوں نے تعلیم کو عام کیا۔ شہر میں کانوینٹ اسکولوں کا جال سا بچھا ہوا ہے۔

اس شہر کے زیادہ سماجی حلقوں کا خیال ہے کہ ممبئی کا آج جو روپ رنگ ہے اور اسے جو مقام حاصل ہے وہ باہر سے آئے لوگوں کے پیسوں اور محنت سے بنا ہے اور آپ انہیں ممبئی سے الگ نہیں کر سکتے۔

شانتا رام شائع ہو گئی
نئی کتاب ممبئی میں جرائم کی دنیا سے پردہ اٹھاتی ہے
66ممبئی میں لرزش
جنسیت کے موضوع پر ممبئی میں فلمی میلہ
66ممبئی کا چور بازار
چور بازار دنیا میں ممبئی کا ایک شناختی نشان ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد