لین بابا نے ممبئی میں کی دیکھا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے نامور اور بڑے مصنفوں میں سے بہت سوں نے پُرسکون زندگی بسر کی اور اپنے تخیل سے چکاچوند کر دینے والی کہانیوں کو جنم دیا۔ لیکن گریگری ڈیوڈ رابرٹس کا شمار ان مصنفین میں نہیں ہوتا۔ رابرٹس نے اپنی زندگی کے تلخ تجربات کو کتاب کی شکل دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی روداد چار موٹی جلدیں بھر دینے کے لئے کافی ہے۔ اس سلسلے کی پہلی کتاب ’شانتا رام‘ برطانیہ میں شائع کی گئی ہے۔ شانتا رام کا آغاز انیس سو اکیاسی میں روبرٹس کی ممبئی آمد سے ہوتا ہے جہاں وہ آسٹریلوی جیل سے فرار ہو کر پہنچتے ہیں۔ روبرٹس آسٹریلیا میں مسلح ڈکیتی کے الزام میں انیس برس قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ شانتا رام میں روبرٹس کی ممبئی مافیا کے ساتھ سرگرمیوں کی داستان بیان کی گئی ہے۔ گریگری ڈیوڈ رابرٹس کا کہنا ہے کہ ’میں دہلی، مدراس، بنگلور اور دیگر متعدد شہروں میں رہا لیکن منظم جرائم کا جو سلسلہ ممبئی میں نظر آیا وہ کہیں نہیں دیکھا۔‘ رابرٹس کے چہرے پر زمانے کے تلخ تجربات نقش دکھائی دیتے ہیں جن کا احساس ہمیں شانتا رام کے مطالعہ سے بھی ہوتا ہے۔ نوجوانی کے دور میں رابرٹس بائیں بازو کے ریڈیکل ہونے کے ساتھ ساتھ ویت نام پر امریکی جنگ کے خلاف مظاہروں کی انقلابی قیادت بھی کر چکے ہیں جس کے باعث رابرٹس کے بقول انہیں ’قومی شناخت‘ حاصل ہوئی۔ رابرٹس نے شادی کی، ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی اور وہ درس و تدریس کی دنیا سے وابستہ رہے۔
لیکن اس کے بعد رابرٹس کی زندگی یکسر بدل گئی۔ شادی کی ناکامی کا دکھ مٹانے کے لئے انہوں نے ہیروئین سے سمجھوتا کر لیا اور اِس موذی نشے کا خرچ پورا کرنے کے لئے جرائم کی دنیا میں جا پہنچے۔ متعدد مسلح ڈکیتیوں کے بعد رابرٹس بالآخر دھر لئے گئے لیکن پھر فرار ہو کر براستہ نیوزی لینڈ ممبئی پہنچے جہاں وہ لین بابا کے نام سے معروف ہو گئے۔ ممبئی پہنچنے کے چند ہی ہفتے بعد رابرسٹس نے جھونپڑ بستیوں میں سکونت اختیار کی اور وہاں فرسٹ ایڈ میں تربیت یافتہ ہونے کے حوالے سے ایک کلینک قائم کیا اور مقامی رہائشیوں کی طبی امداد کرنے لگے۔ رابرٹس انیس سو اسی کے پورے عشرے میں کرنسی کے غیرقانونی کاروبار سے منسلک رہے اور بعد میں جعلی پاسپورٹ بنانے کا کام شروع کر دیا اور یہی سرگرمیاں رابرسٹس کی ممبئی مافیا سے وابستگی کا سبب بنیں۔ وہ انیس سو نوے میں اپنے ہی تیار کردہ جعلی پاسپورٹ کے باعث جرمنی میں پکڑے گئے جس کے بعد رابرٹس کی حوالگی کا طویل سلسلہ جاری رہا جس میں ناکامی کے بعد انہوں نے ایک مرتبہ پھر جیل سے فرار ہونے کا منصوبہ بنایا۔ بی بی سی نیوز آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے رابرسٹس نے کہا کہ ’میں اپنی کوٹھڑی میں بیٹھا تھا اور ماں کا چہرا میری نگاہوں کے سامنے تھا۔ میری ماں نے مجھے دس برس سے نہیں دیکھا تھا اور وہ یہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ جرمنی میں دھر لئے جانے سے پہلے، میں کن حالات سے گزرا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں پھر فرار ہو گیا تو ماں پر کیا گزرے گی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے اپنی ذات سے نکل کر کسی دوسرے کے بارے میں سوچا تھا۔ اس دن کے بعد سب کچھ ٹھیک ہونے لگا، میں نے سگریٹ، شراب یا منشیات کو دوبارہ کبھی نہیں چھوا، میں لوگوں کو بھی یہ فارمولا بتانا چاہتا ہوں لیکن یہ کرنے سے قاصر ہوں۔ سب انسانوں کی زندگی میں ایک موڑ آتا ہے جو اس روز میری زندگی میں آیا۔‘ آسٹریلیا میں اپنی یہ بات مکمل کرنے کے بعد رابرٹس اپنی داستانِ حیات پر کام کرنے چل پڑے۔ شانتا رام محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ رابرٹس کی زندگی کے واقعات کو انتہائی دلچسپ اور عمدہ نثر کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ شانتا رام پہلے ہی آسٹریلیا میں بیسٹ سیلر رہی ہے اور رابرٹس نے کتاب سے حاصل ہونے والی آمدن کو اپنے ’سماجی ایجنڈے‘ پر صرف کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||