ریحانہ بستی والا
|  |
ممبئی کو شنگھائی بنانے کے لئے ریاستی حکومت نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کو شہر بھر کے ’غیر قانونی‘ جھوپڑوں کو منہدم کرنے کا حکم دے دیا ہے اور اس کام کے لیے 31 ہزار کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ نومبر سے جاری اس کارروائی نے جہاں لاکھوں افراد کو کھلے آسمان تلے ٹھٹہرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے وہیں سردی، نامساعد حالات اور ڈیپریشن سے کئی جانیں جا چکی ہیں۔ سینکڑوں افراد یرقان کا شکار ہیں۔ ہزاروں طلباء کا مستقبل سر سے چھت چھن جانے سے خطرے میں ہے۔ والدین سہارا ڈھونڈنے کی فکر میں در بدر پھر رہے ہیں۔ ڈپٹی میونسپل کمیشنر ڈی این کلام پاٹل کی نگرانی میں ملاڈ مغرب، کف پریڈ کولابا،گھاٹ کوپر اور گوونڑی جوہو سمیت متعدد علاقوں میں اب تک 55 ہزار جھوپڑوں پر بلڈوزر چل چکا ہے۔ کلام پاٹل کے مطابق اس کارروائی کے بعد اب تک 300 ایکڑ زمین خالی کرائی جا چکی ہے اور مزید چند دنوں میں تین لاکھ جھوپڑے توڑے جانے کا منصوبہ ہے۔ لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جھونپڑے 1995 سے قائم ہیں لیکن کلام پاٹل کا کہنا ہے کہ اب تک توڑے گئے تمام جھونپڑے 2000 کے بعد بنائے گئے تھے اور اگر اس دوران گرائے گئے کسی بھی قانونی جھونپڑے کے رہنے والے کو حکومت متبادل جگہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ جوہو میں ایک معمرشخص نے یکایک آشیانہ اجڑ جانے کے صدمے سے خود سوزی کر لی۔ 60 سالہ ایک شخص سردی سے ٹھٹہر کر مر گیا اور امبوج واڈی میں جب انہدامی عملہ پہنچا تو افراتفری میں ایک 12 سالہ لڑکا کھلے گٹر میں گر گیا۔ رفیق نگر گونڈی میں ایک 5 سالہ بچی نمونیہ کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئی۔ اس کے علاوہ ایک اور بچی کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ یہاں 1500 جھونپڑے منہدم کیے جا چکے ہیں، بعض خاندان پناہ کی غرض سے نقل مکانی کر گئے ہیں اور 300 کے قریب افراد وہیں کچرے اور گندگی کے پاس رہنے پر مجبور ہیں۔ شہر کے کئی مقامات پر انہدامی کارروائی کے دوران پتھراؤ میں کئی میونسپل اور پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس لئے بی ایم سی کے 10 ہزار کے انہدامی عملے کی حفاظت کے لیے پولیس کی نفری بھی بڑھا دی گئی ہے۔ متعدد کانگریسی رہنماؤں نے انہدامی کارروائی رکوانے کے لیے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرائی لیکن وزیر اعلیٰ نے اسے مسترد کر دیا اور اب جھونپڑوں کے ساتھ شہر کے فائیو اسٹار ہوٹل اوبرائے سمیت کئی ایسی عالیشان عمارتیں بھی حکام کا ہدف ہیں جنہوں نے خلافِ قانون زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ |