BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 August, 2005, 13:38 GMT 18:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دارالقضاء پر مسلم لاء بورڈ کو نوٹس

بھارتی سپریم کورٹ
سات ریاستوں سمیت دارالعلوم دیوبند کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں اسلامی عدالتوں کے قیام پر مرکزی حکومت اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کو نوٹس جاری کیا ہے۔

مفاد عامہ کی ایک عذرداری میں مسلم پرسنل لاء بورڈ پر ملک میں متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جس پر عدالت عظمٰی نے بورڈ اور حکومت سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی ہے۔

عذرداری میں مسلم بورڈ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں اسلامی عدالتیں قائم کر رہا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے کہا ہے کہ متوازی عدالتی نظام کے تحت بورڈ نے جو بھی عدالتیں قائم کی ہیں انہیں فوری طور پر تحلیل کرنے کی ہدایات دی جائیں۔

اس معاملے میں عدالت نے سات ریاستوں سمیت ایک اسلامی ادارے دارالعلوم دیوبند کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ تاہم مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ملک میں کسی بھی متوازی عدالتی نظام سے انکار کیا ہے۔

بورڈ کے ترجمان سیّد قاسم رسول الیاس نے بی بی سی کو بتا یا کہ’ بورڈ کے تحت جو بھی دارالقضاء قائم ہیں ان میں صرف شرعی امور پر فیصلے انہیں قوانین کے تحت ہوتے ہیں جو عدالت سے منظور شدہ ہیں۔ یہ دارالقضاء ایک آربٹریشن ایکٹ کے تحت ہیں اور اس سے کسی کوپریشانی نہیں ہونی چاہیے۔اس طرح کے دارالقضاء کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ متوازی عدالتی نظام قائم ہے‘۔

قاسم الیاس کا کہنا تھا کہ جو لوگ شرعی نقطہ نظر سے فیصلہ چاہتے ہیں وہی ان عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس سے عدالتوں کا بوجھ بھی ہلکا ہوتا ہے کیونکہ وہاں مقدمے بہت زیادہ ہیں۔ اس میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی دارالقضاء کے فیصلے سے مطمئن ہے تو بہتر ورنہ وہ آئینی عدالت کا رخ کرتا ہے۔ کئی واقعات ایسے بھی ہیں جہاں عدالتوں نے بورڈ کے فیصلے کو تسلیم کیا ہے چناچہ ہم پر متوازی عدالتیں چلانے کا الزام صحیح نہیں ہے‘۔

وشوا لوچن مدان نے اپنی عرضی میں حال ہی میں پیش آنے والے’ عمرانہ کیس‘ کا حوالہ دے کر یہ دلیل پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ زنا جیسےجرم میں بھی عدالت کے بجائے دارالقضاء فتویٰ دیتے ہیں اور اس میں قانون کی پابندی نہیں ہو پاتی ہے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مختلف ریاستوں میں چھبیس دارالقضاء ہیں۔ اس طرح کے کئي دیگر دارالقضاء کئی ریاستوں میں امارت شریعہ کے تحت تقریبا اسّی برس سے قائم ہیں۔ اسکے علاوہ دارالعلوم دیوبند میں دالافتاء کا شعبہ بھی فتوے جاری کرتا ہے۔

کئی متنازعہ معاملات پر ان اداروں کے فتووں سے پارلیمنٹ اور ذرائع ابلاغ میں بحث بھی ہوئی ہے۔ بعض حلقوں میں یہ آواز اٹھتی رہی ہے کہ ایک ہی ملک میں دو طرح کے قوانین نہیں ہونے چاہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد