BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 August, 2005, 15:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایودھیا میں ایک اور تنازعہ

News image
پانچ جولائی کو ایودھیا پانچ شدت پسند پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے
ایودھیا میں بابری مسجد رام مندر کے تنازعہ کے ساتھ ساتھ اب ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کیونکہ بعض ہندوتنظیمیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ اُن پانچ شدت پسندوں کی قبروں کو کہیں اور منتقل کیا جائے جنہیں گزشتہ ماہ ہلاکت کے بعد ایک مقامی قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا۔

پانچ جولائی کو ایودھیا کی منہدم بابری مسجد کے مقام پر واقع متنازعہ رام مندر پر حملے کی ایک کوشش میں پانچ شدت پسند پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

ان شدت پسندوں کی شناخت کی بنیاد پر فیض آباد کی ضلعی انتظامیہ نے انہیں ایودھیا سے تقریباً تین کلومیٹر دو فیض آباد شہر کے ایک قبرستان میں دفن کروا دیا تھا۔

اس واقعہ کے تقریباً ایک ماہ بعد گزشتہ دنوں ایک سخت گیر ہندو تنظیم پوروانچل رایہ سنگھرش سمیتی کے تقریباً سو کارکنوں نے اس قبرستان پر حملہ کر دیا اور شدت پسندوں کی لاشیں کھودنے کی کوشش کی۔

مقامی لوگوں کے ذریعے خبر ملتے ہی پولیس وہاں پہنچ گئی اور یہ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے۔ اس قدیم قبرستان میں قبروں کی بے حرمتی پر مقامی آبادی میں کافی ناراضگی ہے۔

شدت پسندوں کی لاشوں کو جب ضلعی انتظامیہ نے لاوارث لاشوں کا کفن دفن کرنے والے سماجی کارکن محمد شریف اور قبرستان کے دیگر ذمے داروں کو سونپا تھا تو انہوں نے خود اس کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اِن کی لاشیں یہاں دفن نہ کی جائیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ کوئی غیر ضروری تنازعہ نہ پیدا ہو۔

لیکن انتظامیہ نے تحریری طور پر درخواست کی اور کہا کہ ’پانچوں انتہا پسندوں کی لاشیں اب صرف مردہ جسم نہیں۔ اس لیے انسانی اور دینی فریضہ کے تحت اُن کی آخری رسوم ادا کی جائیں۔‘

اس درخواست کے بعد ہی قبرستان کے ذمے داروں نے کفن، نماز جنازہ اور تدفین کا انتظام کیا تھا۔

سخت گیر ہندو تنظیموں کی طرف سے قبرستان پر مظاہرہ قبروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش اور اشتعال انگیز نعروں سے مقامی مسلمان تشویش میں مبتلا ہیں۔

ضلعی مجسٹریٹ مارکنڈے سنگھ نے کہا ہے کہ ’قبرستان میں ہنگامہ کرنے والے ہندو کارکنوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ سخت قدم اٹھائے گی۔‘

وشوہندو پریشد جیسی سخت تنظیمیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ متنازعہ مقام پر واقع عارضی رام مندر کی حفاظت کے لیے اس کے عقب میں واقع مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو کہیں اور منتقل کر دیا جائے۔

اِن تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقدس مقام کے چودہ میل کے دائرے میں اس پر حملہ کرنے والوں کی قبریں ہر گز قابل قبول نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد