BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 May, 2006, 05:30 GMT 10:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اندھیر دلی،چوٹالہ راجہ اور انٹر نیٹ

 بجلی
پندرہ برس سے دلی کی حکومتیں بجلی اور پانی کے مسئلہ کو حل کرنے میں لگی ہوئی ہیں
اندھیری دلی
دلی میں دو ہزار دس کے کامن ویلتھ گیمز سے قبل پورے شہر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیئے تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ روشنی کے لیئے آسٹریلیا اور فرانس کے ماہرین سے بات کی جارہی ہے۔ سڑک کا ٹھیکہ کسی جرمن کمپنی کو دیا جا سکتا ہے اور تعمیرات کے لۓ جاپانی کمپنیاں کوشش کر رہی ہیں۔

ادھر دلی اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہے۔گرمی آتے ہی دارالحکومت پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہر برس کی طرح اس برس بھی بجلی کی شدید قلت ہے۔ شہر کا شاید ہی کوئی علاقہ ہو جہاں بجلی نہ جاتی ہو۔ پانی کا الگ مسئلہ ۔ گزشتہ پندرہ برس سے دلی کی حکومتیں بجلی اور پانی کے مسئلہ کو حل کرنے میں لگی ہوئی ہیں لیکن یہ مسئلہ ہے کہ حل ہونے کو نہیں آ رہا۔ پڑوسی ریاستیں اترپردیش، ہریانہ اور اترانچل دلی کو پانی دینے کے لیئے تیار نہیں ہیں۔ اب لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ ملک کو ایران گیس پائپ لائن نہیں بلکہ ایران پانی پائپ لائن کے لیئے بات چیت کرنی پڑے گی۔

چوٹالہ کی سلطنت

ہریانہ کے سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ،
گزشتہ دنوں سی بی آئی نے ہریانہ کے سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ، ان کے دو بیٹوں اور بعض قریبی رشتے داروں کی ملکیتی پچیس رہائشی اور کاروباری عمارات پر چھاپےمارے۔ سی بی آ‎ئی نے دعوی کیا ہے کہ اسے تقریباً ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے مالیت کی ناجائز جائیدادوں کا پتہ چلا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے سے جاری کردہ فہرست میں شامل املاک و جائیداد چھ ریاستوں میں واقع ہیں۔ ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ چوٹالہ نے یہ ناجائز اثاثے انیس سو ننانوے سے دو ہزار پانچ تک اس عرصے میں بنائے جب وہ وزیرِاعلٰی تھے۔ مسٹر چوٹالہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ اس وقت ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں اور انھوں نے ایجنسی کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔

شادی ایک مسئلہ

کئی اتوار ایسے ہوتے ہیں جب ایک ساتھ پانچ ہزار شادیاں ہوتی ہیں۔
دلی میں فارم ہاؤسز اور بینکوئٹ ہالوں میں شادیوں پر پابندی لگائے جانے کے بعد شادی کے تقریبات کے لیئے مقامات کی کمی کا سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔دارالحکومت میں ہر برس تقریبا ڈیڑھ لاکھ شادیاں ہوتی ہیں۔ اِن میں سے بیشر شادیاں دو مہینوں کے درمیان ہوتی ہیں جب ہندو روایات کے مطابق ستارے شادیوں کے لیئے شبھ یا مبارک ہوتے ہیں۔ اس دوران کئی اتوار ایسے ہوتے ہیں جب ایک ساتھ پانچ ہزار شادیاں ہوتی ہیں۔ میونسپلٹی کے پاس پورے شہر میں صرف ایک سو چوراسی شادی ہال ہیں اور اب میونسپلٹی نے کہا ہے کہ وہ ہر برس دس’شادی ہال‘ تعمیر کرے گی اور تب تک شادیاں مکانوں کے عقب، چھتوں اور کھلے میدانوں میں ہوا کریں گی۔

مچھروں نے کام آسان کر دیا

جنگلوں میں تعینات کیئے جانے والے فوجی بھی ہر برس ملیریا کا شکار ہوتے ہیں
ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں جس کام میں فوج کو سخت مشکلات کا سامنا ہے وہ کام بظاہر مچھروں نے آسان بنا دیا ہے۔ آسام میں ملیریا کے کئی مریضوں پر اس لیئے نظر رکھی جا رہی ہے کیوں کہ ان پر شک ہے کہ وہ علیحدگی پسند تنظیم الفا کے رکن ہیں اور جنگلوں میں رہنےکی وجہ سے ملیریا کا شکار ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں میں الفا کے تین ہزار شدت پسندوں میں سے کم ازکم بیس فی صد ملیریا اور انسفلائٹس کی بیماری سے مارے گئے ہیں۔ جنگلوں میں تعینات کیئے جانے والے فوجی بھی ہر برس ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جبکہ حالیہ برسوں میں تقریباً چالیس شدت پسندوں کو ملیریا کا علاج کراتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔

حلال یا جھٹکا
ہندوستان کے دُون سکول میں ان دنوں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ سکول کے ’میس‘ میں حلال گوشت رکھا جائے یا جھٹکا۔ یہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب ایک ہندو طالب علم کے والدین نے حلال گوشت پیش کیئے جانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہندوؤں اور سکھ طلبہ کے لیئے ’جھٹکا‘ گوشت پیش کیا جا‎ئے۔ صورتحال کی پیچیدگی کے پیشِ نظر فی الحال صرف ’حلال‘ گوشت ہی پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیوں کہ مسلم ’جھٹکا‘ نہیں کھاتے جبکہ باقی مذاہب کے لوگوں کو کھانے پینے کے معاملے میں بنیادی طور پر کوئی اعترا‍ض نہیں ہے۔

انڈیا ’ٹاپ ٹین‘ میں

انڈیا میں آئی ٹی کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے
انڈیا انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والے دنیا کے دس بڑے ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔ امریکہ کے ’ کام سکور نیٹ ورکس‘ کے ایک جائزے کے مطابق انڈیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے پندرہ برس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ستّر لاکھ ہے۔ امریکہ پندرہ کروڑ کی تعداد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ چین میں یہ تعداد ساڑھے سات کروڑ ہے۔ ہندوستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد روس، آسٹریلیا، سپین اور برازیل سے زیادہ ہے۔
استاد بسم اللہ خاندلی ڈائری
حریت۔منموہن ملاقات اور شہنائی کا جادو
دلی ڈائری
کنفیوزڈ انڈیا، حُسین کی کہانی اور دلّی کا پہلا نمبر
دلی ڈائری
وزارت خارجہ پریشان، منموہن کا دورۂ پاکستان
دلی ڈائری
ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو ریل
انڈین صدردلی ڈا‏ئری
دلّی دھمال، سپروائزر صدر اور نیند میں طلاق
اسی بارے میں
انڈیا کا چائلڈ جینئس
23 November, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد