BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 January, 2005, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فحش ویب سائٹیں، دس سال کی جیل

بچوں کو فحش ویب سائٹوں سے بچانے والے سافٹ ویئر ابھی غریب ملکوں میں دستیاب نہیں ہیں
بچوں کو فحش ویب سائٹوں سے بچانے والے سافٹ ویئر ابھی غریب ملکوں میں دستیاب نہیں ہیں
اترپردیش کی حکومت نے ریاست میں سائبر کیفے میں فحش ویب سائٹ دیکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نئے حکم کے مطابق اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو دو لاکھ روپۓ تک کا جرمانہ اور دس سال تک کی جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔

پہلی بار خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ روپۓ تک کا جرمانہ اور پانچ برس قید تک کی سزا دی جائے گی۔

اتر پردیش کے انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر ویرندر سنگھ نے کہا ہے کہ تمام سائبر کیفے کو اب ایسے سافٹ ویئر لگانے ہوں گے جن سے لوگ فحش سائٹ تک رسائی نہ حاصل کر سکیں۔

انہوں نے ہدایت کی ہے کہ تمام سائبر کیفے کے مالکان کو ایک ماسٹر کمپیوٹر لگانا ہوگا جس کے ذریعے وہ نگرانی کر سکیں گے کہ مختلف کمپیوٹروں پر لوگ کیا دیکھ رہے ہیں۔

حکومت کے اس فیصلے سے تمام ضلع مجسٹریٹوں اور پولیس اہلکاروں کو مطلع کر دیاگیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اس کے نفاذ کے لئے سائبر کیفے پر اچانک چھاپے ماریں۔

اس سے پہلے ریاستی حکومت نے یہ حکم دیا تھا کہ سائبر کیقے میں کیبن اور پرائیویسی کے لئے بنائی گئی لکڑی کی دیواریں گرا دی جائیں۔

ملک میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے سب سے بڑے ادارے نیسکام یعنی نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروسز کے اہلکار محمد شہاب الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ فحش سائٹوں کو بلاک کرنے کے سافٹ ویئر موجود ہیں اور وہ آسانی سے لگائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا سافٹ ویئر سب سے زیادہ امریکہ میں استعمال ہوتا ہے جہاں والدین انٹر نیٹ اور ٹی وی پر بالغوں کے پروگراموں سے بچوں کو دور رکھنے کے لئے ان کا استعمال کرتے ہیں۔

شہاب الدین نے بتایا کہ ہندوستان میں اس طرح کے سافٹ ویئر سکیورٹی کے معاملات میں پہلے ہی استعمال کیے جارہے ہیں۔

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اتر پردیش کی حکومت کے اس نئے قانون سے پولیس اور ضلع انتظامیہ کو بے پناہ اختیارات مل جائيں گے اور وہ سائبر کیفے کے مالکان کو ہراساں کرنے کے لئے اس کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔

شہاب الدین کا خیال ہے کہ حکومت کو اس طرح کے اقدامات کرنے کے بجائے انٹرنیٹ کے بہتر استعمال کے بارے میں بیداری اور جانکاری پیدا کرنے پر زور دینا چاہیۓ۔

انہوں نے کہا کہ اس قدم سے بچوں اور دیگر افراد میں فحش سائٹوں کے لئے مزید تجسس پیدا ہوگا اور وہ انہیں سائبر کیفے کے بجائے اپنے گھروں اور دیگر مقامات پر دیکھنے کی کوشش کریں گے۔

انٹرنیٹ پر کنٹرول کس کا؟آپ کی رائے
انٹرنیٹ پر کنٹرول نجی کمپنیوں کا ہی کیوں؟
 سائبر جرائمسائبرجرائم کا سال
2004 میں سائبر جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا
مصنوعی سائبر گرل فرینڈمصنوعی سائبرگرل
ایک خیالی لڑکی جو آپ کے ساتھ ہوگی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد