سائبر فحاشی: یوپی میں گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست اترپردیش میں پولیس نے سائبر کیفیز پر چھاپوں کے دوران پچاس افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں دو ایسے انٹرنیٹ کیفے بھی شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ اپنے کیبن نوجوانوں کو جنسی عمل کے لیے کرایے پر دیتے ہیں۔ چھاپوں کے وقت گرفتار ہونے والے کئی افراد برہنہ حالت میں پائے گئے۔ ریاست اترپردیش کے سربراہ وی کے بی نائر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سائبر کیفیز پر چھاپوں کا حکم ان شکایات کے بعد دیا جن میں کہا گیا ہے کہ کئی طالبعلم سکولوں میں پڑھائی کے بجائے انٹرنیٹ پر غیر شائستہ مواد دیکھتے رہتے ہیں۔ سائبر کیفیز پر چھاپوں کا یہ سلسلہ دلی کے ایک تعلیمی ادارے میں جنسی عمل کی کیمرہ فون کے ذریعے ریکارڈنگ اور اس کی سی ڈی کی ریلیز کے بعد شروع ہوا ہے۔ لکھنؤ میں بی بی سی کے نامہ نگار پولیس نے چھاپوں کے دوران ان مقامات کو بھی نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر غیر شائستہ فلمیں اور وڈیو فروخت کی جاتی ہیں۔ ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ میں دو سائبر کیفیز کے مالکان اپنے کیبن لڑکوں لڑکیوں کو جنسی عمل کے لیے ساٹھ روپے فی گھنٹہ کرایے پر دیتے تھے۔ ان سائبر کیفیز کے بیشتر کیبنوں میں کمپیوٹر تک موجود نہیں تھے اور پولیس کو وہاں سے استعمال شدہ کنڈوم ملے ہیں۔ ان دو انٹرنیٹ کیفیز سے بائیس لڑکوں اور لڑکیوں کوگرفتار کیا گیا۔ الہ آباد میں پولیس چھاپوں کے دوران ان دو افراد کو گرفتار کیا گیا جو غیر شائستہ وڈیو سی ڈیز فروخت کر رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||