کرینہ کی طرف سے اخبار کو نوٹس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ کرینہ کپور نےممبئی کے اس اخبار پر بیس کروڑ کا ہرجانہ دائر کر نے کا نوٹس دائر کردیا ہے جس نے اُن کی اور اُن کے ساتھی شاہد کپور کی بوس و کنار کرتے ہوئے تصاویر چھاپ دی تھیں۔ کرینہ اور شاہد کپور کے یہ تصاویر کسی نے خفیہ طور پر کھینچ کر مڈ ڈے نامی اخبار کو بھیج دی تھیں۔ ان تصاویر کو نہ صرف اخبار میں شائع کیا گیا بلکہ بعد میں ٹی وی پر بھی نشر کیاگیا۔ بالی ووڈ اداکارہ اور ان کے دوست شاہد کپور جن کی دوستی کے بالی ووڈ میں کافی چرچے ہیں ، جب ان کی تصاویر اس طرح شائع ہوئیں تولوگوں نے ہاتھوں ہاتھ اخبار خریدا۔ اخبار کے اندرونی صفحات پر بھی مزید تین تصویریں شائع کی گئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کرینہ کپور اپنے دوست کے ساتھ مینہ طور پر جوہو کے ’رین‘ ہوٹل میں تھیں۔ ان کے پاس کی میز پر بیٹھے کسی رپورٹر نے اپنے کیمرہ موبائل فون سے دونوں کی کئی تصویریں اتار لیں اور دونوں کو پتہ بھی نہ چلا ۔ جب اخبار نے ان تصویر کو شائع کیا تو پورے شہر میں ہنگامہ سا مچ گیا۔ اس روز اور آج کا اخبار ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوا ہے اور اس کی کاپیاں بازار میں کہیں نہیں مل رہی ہیں۔ کرینہ نے اپنے وکیل مہیش جیٹھ ملانی کے ذریعہ اخبار کو ایک قانونی نوٹس بھیجا جسے اخبار نے آج شائع کیا ۔ نوٹس میں کرینہ نے کہا ہے کہ جو تصویر شائع کی گئی ہیں وہ غلط و جعلی ہیں۔ تصویر میں وہ نہیں ہیں ۔اس لئے اخبار بلا شرط معافی مانگے ورنہ 20 کروڑ روپے بطور ہرجانے کا وہ مقدمہ دائر کريں گی۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اخبار نے جان بوجھ کر سستی پبلیسٹی کے لۓ یہ طریقہ اپنایا ہے۔ جس ’رین‘ ہوٹل کا ذکر کیا گیا ہے اس میں وہ یا شاہد گزشتہ تین ماہ سے نہیں گئے ہیں۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اخبار میں فحش تصاویر شائع کرنا قانونا جرم ہے۔ اخبار کی ایڈیٹر مینل بگھیل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تمام تصاویر کرینہ اور شاہد کی ہی ہیں۔ یہ تصاویر نہيں بلکہ وڈیوکلپنگ ہے اور صرف انکے ہی اخبار کو ہی نہیں بلکہ کئی اورٹی وی چینلز کو دی گئی ہیں اور ان میں دونوں کی شکلیں برابر دکھائی دے رہی ہیں ۔ انہوں نے تصدیق کی کہ انہیں کرینہ کی جانب سے قانونی نوٹس ملا ہے جبکہ شاہد نے ابھی تک اپنی چپ نہیں توڑی ہے ۔ مینل کا دعوی ہے کہ انہوں نے صحافت کے اصولوں کو نہیں توڑا ہے اور تصاویر کے صحیح ہونے کے انکے پاس ثبوت بھی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||