سائبر کرائم، فنڈز کی کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچوں کے خیراتی اداروں کے مطابق سائبر کرائم کے شکار بچوں کے تحفظ اور انٹرنیٹ جنونیوں پر مقدمات چلانے کےلیے مزید رقم اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی اور ’ تھرڈ جنریشن فون‘جیسے ذرائع مہیا کرے۔ برطانوی وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ ان مطالبات سے ’حیران‘ہیں۔ وزیر پال گوگنز کا کہنا تھا کہ’گذشتہ ہفتے’چائلڈ انٹرنیٹ پروٹیکشن ٹاسک فورس‘ کا اجلاس ہوا اور وہاں سب کام کی رفتار اور معیار سے مطمئن تھے‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’بچوں کا تحفظ‘ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ پال گوگنز کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس رقم کی کمی نہیں البتہ وہ پولیس کے پاس موجود ذرائع کے زیادہ بہتر استعمال پر توجہ دیں گے۔ ’مزید رقم کی فراہمی سے پہلے پولیس کی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔‘ دوسری تجاویز کے علاوہ( CHIS) نےآن لائن 999 سروس شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔ CHIS کے ترجمان جان کار نے کہا’ جو کوئی شخص انٹرنیٹ پر جرم ہوتا دیکھے یا اسے کسی جرم کی خبر ملے وہ اس سروس کو استعمال کرتے ہوئے فورا ًً خبردار کر سکتا ہے۔ CHIS میں این ایس پی سی سی، برنارڈو، این سی ایچ اور چائلڈلائن جیسے خیراتی ادارے شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||