2004: سائبر جرائم میں بےتحاشہ اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ برس کے دوران ونڈوز آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے کمپیوٹروں کو لاحق خطرات میں نہایت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مارکیٹ میں موجود کمپیوٹر وائرسوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ نئے کمپیوٹر وائرسوں کی تعداد میں پچاس فیصد شرح ِ اضافہ سامنے آئی۔ اسی طرح لوگوں کو فریب دے کر ان سے معلومات حاصل کرنے کے کاروبار میں تیس فیصد اضافہ ہوا اور ساتھ ہی اس قسم کے حملوں میں تکنیکی اعتبار سے بہتری آئی۔ اس کے علاوہ ’بوٹ نیٹ‘ یعنی ریموٹ نیٹ ورکس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ کمپیوٹر ہیکر ان نیٹ ورکس کو مختلف سائبر جرائم میں استعمال کرتے ہیں۔ سن دو ہزار چار میں ہیکنگ کی دنیا میں ہیکروں کی نئی نسل سامنے آئی جو کہ نو عمر لڑکوں پر مشتمل تھی۔سیمنٹک سکیورٹی کے مینیجر کیون ہوگن کے مطابق یہ لڑکےسستی شہرت اور پیسہ کمانے کے لیے مختلف وائرس پھیلاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2004 میں زیادہ تر ان وائرس پروگراموں کو مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ سوفوس نامی اینٹی وائرس کمپنی کے مشیر گراہم کلولی کا کہنا تھا کہ ’ جب اس کام میں کاروباری دنیا شامل ہو جائے تو حالات بگڑ جاتے ہیں۔ ہیکر اور وائرس لکھنے والے اب پیسے کی تلاش میں ہیں‘۔ انٹرنیٹ کمپنی لائیکوس کے مطابق 2004 میں قرض کی فراہمی کا دھوکہ دے کر صارفین کے بنک ا کاؤنٹوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے فراڈ میں پانچ سو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2004 کے ابتدائی مہینوں میں نیٹسکائی، بیگل اور مائی ڈوم نامی ای میل وائرس سامنے آئے البتہ سال کے زیادہ تر حصے میں خفیہ طور پر پیش کیے گئے وائرس ہی سامنے آئے۔ ستمبر میں سیمنٹک سکیورٹی کمپنی کے جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ’بوٹ کمپیوٹروں‘ کی تعداد میں روزانہ دو ہزار سے تیس ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔ 2004 میں ہی موبائل فون کو متاثر کرنے والا پہلا باقاعدہ وائرس سامنے آیا۔ اس برس جون میں کیبر نامی وائرس سامنے آیا جو کہ ایک موبائل فون سے دوسرے فون تک بلیو ٹوتھ ٹیکنالوجی کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سمبئین فونز نے موسکیٹو گیم متعارف کروائی جو کہ خفیہ طور پر پریمئیم فون نمبروں کو کال کرنے میں استعمال ہوئی۔ اگر مثبت اقدامات کی جانب دیکھا جائے تو فن لینڈ کے حفاظتی کمپنی اس برس کے دوران آٹھ وائرس تخلیق کاروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ وائرس تیار کرنے والے 29A گروہ کے کچھ ارا کین کو سزا بھی سنائی گئی۔ اس سلسے میں ایک اہم پیش رفت جرمن لڑکے سوین جیسچن کی گرفتاری تھی جس نے اس پرس تباہی مچانے والے سیسر اور نیٹسکائی وائرس تخلیق کرنے کا اعتراف کیا۔ اس کی علاوہ کارڈر پلیِنٹ اور شیڈو کرین نامی ویب سائٹیں بھی بند کر دی گئیں۔ یہ دونوں ویب سائٹیں چوری شدہ کریڈٹ کارڈ نمبروں کا کاروبار کرتی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||