’ کنفیوزڈ‘ انڈیا، حُسین کی کہانی اور نمبر ون دلّی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ کنفیوزڈ‘ انڈیا انڈیا نیپال کی صورتحال کے بارے میں ابہام میں مبتلا ہے۔ جمعرات کے روز خصوصی ایلچی کرن سنگھ نے شاہ گیانندرا سے ملاقات کے بعد دلی واپسی پر اعلان کیا کہ شاہ جلدی ہی ایسے اعلانات کرنے والے ہیں جن سے جس سے موجودہ تعطل ختم ہو جائےگا۔ شاہ نے جو اعلان کیا انڈیا نے اس کا خیر مقدم کیا لیکن نیپال کی سیاسی جماعتوں نے اسے قطعی طور پر مسترد کر دیا۔ انڈیا نے ایک دن بعد ایک اور بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ جمہوریت کے لیئے وہ نیپال کے عوام کے ساتھ ہے لیکن وہ بادشاہ کی بھی حمایت کرتا ہے۔ نیپال کے ذرائع ابلاغ نے انڈیا کی پوزیشن کو’ کنفیوزڈ‘ قرار دیا ہے۔ نیپالیوں کی ناراضگی
بعد میں شاہ کے خطاب کا خیر مقدم کرنے سے لوگوں کی ناراضگی اور بھی بڑھ گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ نیپال کو’بھوٹان نہیں بننے دیں گے‘۔ لوگوں کی خاصی تعداد انڈیا کو’سامراجوادی‘ سمجھتی ہے۔ ایم ایف حسین نہیں آئے
ششانت کا کہنا ہے کہ وہ بعض ہندو تنظیموں کی دھمکیوں کے پیش نظر اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ ان ننظیموں نے ہندو دیوی دیوتاؤں کی برہنہ تصویریں بنانے پر ایم ایف حسین کی انگلیاں کاٹنے والے کو لاکھوں روپے انعام دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دلّی نمبر ون
چیمبرز ایسوکیم کی ’ آئیکو پلس سٹڈی‘ کے مطابق سال دو ہزار چھ کے ابتدائی دو مہینوں میں دلّی کے آجروں نے اعلٰی سطحی نوکری کے لیئے1495 اشتہارات شائع کرائے جبکہ ممبئی میں یہ تعداد 1344 رہی۔ بنگلور شہر اس دوڑ میں تیسرے نمبر پر رہا۔گزشتہ برس پہلی پوزیشن ممبئی کے حصے میں آئی تھی۔ اس جائزے کے مطابق گریجوئیٹ اور انڈر گریجوئیٹ طلبہ کی نوکری کے لیئے مواقع پیدا کرنے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ ہی سب سے اوپر ہے جبکہ دوسرے نمبر پر’سیلز اور مارکیٹنگ‘ کا شعبہ ہے۔ تحقیق کے مطابق’انجینئرنگ‘ کو تیسرا مقام حاصل ہوا ہے اور اس شعبہ میں نوکری کی 1050 خالی جگہوں کے لیئے اشتہارات شائع کئے گئے ہیں۔مالیات کے شعبہ کو چوتھا مقام حاصل ہوا ہے اور ممبئی میں اس شعبے سے متعلق سب سے زیادہ 220 خالی جگہوں کے لیئے اشتہارات شائع کئے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا کارٹون اور مسلم سیاست19 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا بش ریلی، مادھوری، امرسنگھ اور جسیکا26 February, 2006 | انڈیا مصوری، شاہی شادی اور صدر بش کے کھانے 19 February, 2006 | انڈیا ہوائی اڈوں کی نج کاری کا مسئلہ05 February, 2006 | انڈیا ہندوستان تیسری بڑی معیشت29 January, 2006 | انڈیا موت کے اسباب جاننے کیلیے سروے15 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||