دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی میں بھگدڑ دارالحکومت دلی میں ان دنوں بھگدڑ کا سماں ہے۔ جگہ جگہ بازاروں میں، رہائشی علاقوں میں اور سڑکوں کے کنارے بنی ہوئی دکانیں سیل کی جا رہی ہیں۔ مبہم اور اور غیرواضح قوانین، میونسپل کارپوریشن کی نااہلی اور بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی بدعنوانی کی قیمت چھوٹے دکانداروں سے لے کر بڑے بڑے شاپنگ مراکز تک سبھی کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ دلی کے سینکڑوں علاقوں میں ہزاروں دکانیں غیر قانونی قرار دی گئی ہیں۔ عدالت نے انہیں جون تک کسی اور علاقے میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔ بڑے پیمانے پر دکانیں سیل بھی کی جا رہی ہیں۔ تاجر برادری میں افراتفری کا یہ عالم ہے کہ حکمراں جماعت اور حزب اختلاف دونوں نے مل کر مرکز سے کوئی راستہ نکالنے کی اپیل کی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر میونسپل کارپوریشن نے انہیں ابتدا میں ہی ان علاقوں میں جنہیں اب غیرقانونی قرار دیا جا رہا ہے، دکانیں اور شاپنگ سنٹرز تعمیر کرنے سے روکا ہوتا تو آج یہ صورتحال نہ پیدا ہوتی۔ میونسپلٹی نے اپنی کچھ ذمےداری قبول کرتے ہوئے اٹھارہ سینیئر انجینئروں کو برطرف کیا ہے اور ابھی کئی اور برطرف ہوں گے۔ ممبئي اور بنگلور میں میٹرو ریل
ان تینوں بڑے شہروں میں سب سے اچھی حالت حیدرآباد کی ہے۔ حیدرآباد بڑی خاموشی مگر تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ میٹرو ریل کا پروجیکٹ آئندہ دو تین مہینوں میں شروع ہو جانے کی توقع ہے۔ اس وقت صرف دلی میں میٹرو چل رہی ہے اور انتہائی کامیاب ہے۔ ایم ایف حسین کی مشکل
بہار میں سال میں دو مہینے کلاس ماضی میں کئی بار ایسا بھی ہوا ہے جب بہار میں اساتذہ کو کئی کئی مہینے تک تنخواہیں نہیں ملیں۔ تاہم ریا ست کی نئی حکومت تعلیم پر خاص توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ کشمیر میں معزور قیدی
جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک ٹیم نے حال میں جموں جیل کے دورے کے بعد ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے وہان 16 برس سے کم عمر کے بچوں کو بھی عوامی سلامتی ایکٹ کے تحت قید میں رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہی معاملے میں قیدیوں کو تین تین ماہ تک قید میں رکھا جا رہا ہے۔ حقوق انسانی کے کمیشن نے اس رپورٹ کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا ہے اور جواب کے لیۓ دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ ریلوے کی کایا پلٹ لالو کے آنے بعد نہ صرف ریلوے اسٹیشنوں کو صاف ستھرا رکھنے کی اسکیم شروع ہوئی بلکہ ان اسٹیشنوں پر اب بینکوں کے اے ٹی ایم، سائبر کیفے اور دوسری جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اسٹیشنوں پر کافی، کوکا کولا، پیپسی، چاۓ اور دیگر مشروبات کی آٹومیٹک وینڈنگ مشینیں لگائی جائیں گی۔ محکمے کو ان کے ٹھیکے سے تقریبا دو سو کروڑ روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔ |
اسی بارے میں حکومت کی خارجی مصیبت 12 February, 2006 | انڈیا ہوائی اڈوں کی نج کاری کا مسئلہ05 February, 2006 | انڈیا ہندوستان تیسری بڑی معیشت29 January, 2006 | انڈیا عدلیہ و پارلیمنٹ دلی میونسپلٹی اور بندر22 January, 2006 | انڈیا موت کے اسباب جاننے کیلیے سروے15 January, 2006 | انڈیا غیر محفوظ دِلی، تاج محل کےلیے ابٹن اور کار میں ٹی وی08 January, 2006 | انڈیا نیپکن کا تکیہ اور بھارتیوں کیلیے ویاگرا اور بالغ فلمیں 25 December, 2005 | انڈیا وزارتِ خارجہ پریشان، شاکی عوام، بنگالورو، دوگنے ارب پتی 18 December, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||