BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 April, 2006, 06:34 GMT 11:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو

دہلی میں غیرقانونی شاپنگ مال کے انہدام سے قبل وہاں پولیس تعینات
دلی میں بھگدڑ
دارالحکومت دلی میں ان دنوں بھگدڑ کا سماں ہے۔ جگہ جگہ بازاروں میں، رہائشی علاقوں میں اور سڑکوں کے کنارے بنی ہوئی دکانیں سیل کی جا رہی ہیں۔ مبہم اور اور غیرواضح قوانین، میونسپل کارپوریشن کی نااہلی اور بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی بدعنوانی کی قیمت چھوٹے دکانداروں سے لے کر بڑے بڑے شاپنگ مراکز تک سبھی کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

دلی کے سینکڑوں علاقوں میں ہزاروں دکانیں غیر قانونی قرار دی گئی ہیں۔ عدالت نے انہیں جون تک کسی اور علاقے میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔ بڑے پیمانے پر دکانیں سیل بھی کی جا رہی ہیں۔ تاجر برادری میں افراتفری کا یہ عالم ہے کہ حکمراں جماعت اور حزب اختلاف دونوں نے مل کر مرکز سے کوئی راستہ نکالنے کی اپیل کی ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر میونسپل کارپوریشن نے انہیں ابتدا میں ہی ان علاقوں میں جنہیں اب غیرقانونی قرار دیا جا رہا ہے، دکانیں اور شاپنگ سنٹرز تعمیر کرنے سے روکا ہوتا تو آج یہ صورتحال نہ پیدا ہوتی۔ میونسپلٹی نے اپنی کچھ ذمےداری قبول کرتے ہوئے اٹھارہ سینیئر انجینئروں کو برطرف کیا ہے اور ابھی کئی اور برطرف ہوں گے۔

ممبئي اور بنگلور میں میٹرو ریل

دہلی کی میٹرو ریل، اب ممبئی، حیدرآباد اور بنگلور میں بھی میٹرو ریل کو منظوری مل چکی ہے
دلی کے بعد اب ممبئی، بنگلور اور حیدرآباد میں بھی میٹرو ریل شروع ہونے جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے اس سلسلے میں ایک وسیع منصوبے کو منظوری دی ہے۔ ممبئی اور بنگلور میں ٹریفک سب سے بڑا مسئلہ ہے اور میٹرو ریل نظام سے عوام کو یقینا بڑی راحت ملے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میٹرو ریل شروع کرنےکا تصور برسوں پہلے ممبئی میں پیش کیا گیا تھا لیکن وہاں کی سیاسی قیادت نے ٹریفک کے سوال کو اس وقت اہمیت نہیں دی۔

ان تینوں بڑے شہروں میں سب سے اچھی حالت حیدرآباد کی ہے۔ حیدرآباد بڑی خاموشی مگر تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ میٹرو ریل کا پروجیکٹ آئندہ دو تین مہینوں میں شروع ہو جانے کی توقع ہے۔ اس وقت صرف دلی میں میٹرو چل رہی ہے اور انتہائی کامیاب ہے۔

ایم ایف حسین کی مشکل
معروف مصور محمد فدا حسین کے خلاف گجرات کے شہر راجکوٹ اور مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں ان کی بعض تخلیقات کے سبب مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے ایک مقدمے میں انہیں آئندہ جمعرات کو حاضر ہونا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی بعض حالیہ پینٹنگز میں ہندو دیوی دیوتاؤں کو برہنہ دکھا کر ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

ہندو انتہاپسند ایم ایف حسین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے
ایم ایف حسین نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ ان کا مقدمہ دلی منتقل کر دیا جائے کیوں کہ ان دونوں مقامات پر ماحول خطرناک ہے۔ حسین ان پینٹنگز کے لئے پہلے ہی معافی مانگ چکے ہیں لیکن بعض ہندو تنظیموں نے انہیں قتل کرنے یا ان کا ہاتھ کاٹنے پر انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ سپریم کورٹ مقدمے کی منتقلی پر پیر کے روز غور کرے گی۔

بہار میں سال میں دو مہینے کلاس
بہار کی ریاستی حکومت نے گزشتہ دنوں ایک وائٹ پیپر جاری کیا۔ اس دستاویز کے مطابق ریاست میں پرائمری تعلیم تقریبا تباہی کے دہانے پر ہے۔ وہاں 122 طلبا پر اوسطا صرف ایک ٹیچر ہے اور اساتذہ کی یہ حالت ہے سال بھر میں وہ بمشکل دو مہینے سکول پہنچتے ہیں۔ یہی نہیں ان اساتذہ کو پڑھائی لکھائی سے ہٹا کر اکثر دیگر کاموں میں لگا دیا جاتا ہے مثلا پولیو ٹیکے کی مہم یا انتخابی ڈیوٹی وغیرہ۔

ماضی میں کئی بار ایسا بھی ہوا ہے جب بہار میں اساتذہ کو کئی کئی مہینے تک تنخواہیں نہیں ملیں۔ تاہم ریا ست کی نئی حکومت تعلیم پر خاص توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

کشمیر میں معزور قیدی

کشمیر کی جیل میں
 جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطابق وہاں سولہ برس سے کم عمر کے بچوں کو بھی عوامی سلامتی ایکٹ کے تحت قید میں رکھا گیا ہے۔
حقوق انسانی کے قومی کمیشن نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور وہاں کی پولیس کے سربراہ سے ان اطلاعات کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ جموں کی جیل میں عوامی سلامتی قانون کے تحت 65 سال کے کئی بزرگوں کو بھی قید میں رکھا گیاہے۔

جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک ٹیم نے حال میں جموں جیل کے دورے کے بعد ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے وہان 16 برس سے کم عمر کے بچوں کو بھی عوامی سلامتی ایکٹ کے تحت قید میں رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہی معاملے میں قیدیوں کو تین تین ماہ تک قید میں رکھا جا رہا ہے۔ حقوق انسانی کے کمیشن نے اس رپورٹ کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا ہے اور جواب کے لیۓ دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔

ریلوے کی کایا پلٹ
لالو پرساد یادو جب سے ریلوے کے وزیر بنے ہیں ریلوے کے دن پلٹ گئے ہیں۔ اب یہ یادو کا کمال ہے کہ ریلوے کی اپنی صلاحیت، ریلوے کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جدید طرز کی نئی نئی ٹرینیں شروع ہو رہی ہیں اور ریزرویشن کا نظام روز بروز بہتر ہوتا جا رہا ہے۔

لالو کے آنے بعد نہ صرف ریلوے اسٹیشنوں کو صاف ستھرا رکھنے کی اسکیم شروع ہوئی بلکہ ان اسٹیشنوں پر اب بینکوں کے اے ٹی ایم، سائبر کیفے اور دوسری جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اسٹیشنوں پر کافی، کوکا کولا، پیپسی، چاۓ اور دیگر مشروبات کی آٹومیٹک وینڈنگ مشینیں لگائی جائیں گی۔ محکمے کو ان کے ٹھیکے سے تقریبا دو سو کروڑ روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔

انڈین صدردلی ڈا‏ئری
دلّی دھمال، سپروائزر صدر اور نیند میں طلاق
دِلّیدِلّی ڈائری
کارٹون اور مسلم سیاست اور لکھ پتی شہر
سونیا گاندھیدلی ڈائری
پاکستانی قونصل خانہ کھولنے کے لیئے جگہ نہیں
دلی ڈائری
ایک لاکھ کی کتاب، گاندھی سمادھی پر کتے
دلی ڈائری
بھارت تیسری بڑی معیشت بننے کے قریب
اسی بارے میں
حکومت کی خارجی مصیبت
12 February, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد