شمالی انڈیا: بجلی کا شدید بحران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی انڈیا کے بیشتر علاقے آج کل بجلی کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔ لو اور شدید گرمی کے موسم میں کئی کئی گھنٹے بجلی کے غائب رہنے سے لوگوں میں زبردست غم وغصہ ہے اور اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ کم توانائی کے سبب سب سے زیادہ پریشانی دارلحکومت دلی میں ہے۔ بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے دلی حکومت نے تمام بڑے بازاروں کو شام ساڑھے سات بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ بجلی کا خرچ کم ہو لیکن تاجروں کے احتجاج کے بعد حکومت نے اس فیصلے پر عمل روک دیا ہے۔ دلی میں توانائی کے وزیر ہارون یوسف نےکہا ہے کہ ’یہ فیصلہ بجلی بچانے کے لیے کیا گیا تھا تاکہ رہائشی علاقوں میں سپلائی میں کمی نہ آئے لیکن اب ہمیں ہماچل سمیت کئی علاقوں سے اضافی بجلی مہیا کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اس لیے اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا ہے‘۔ اس سے قبل بجلی کی قلت اور توانائی کی تقسیم کی خامیوں پر سپریم کورٹ نےحکومت کی سرزنش کی تھی اور پوچھا تھا کہ آخر حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔ عدالت کی مداخلت کے بعد ہی دلی سرکار نے بجلی کے خرچ کو کم کرنے لیے نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ دریں اثناء شمالی ریاستوں کے توانائی سیکریٹریوں نے دلی میں ایک اہم میٹنگ کے بعد کہا ہے کہ بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شعبہ توانائی نےجو اقدامات کیے ہیں اس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ میٹنگ کے بعد توانائی کے سیکریٹری آر وی شاہی نے نے کہا کہ ’جن علاقوں کو بجلی کی قلت کا سامنا ہے انہیں ہماچل پردیش ، ٹہری اور ستلج کے گرڈز سے جلد ہی اضافی بجلی مہیّا کی جائے گی جس سے مشکلیں کم ہو جائیں گی‘۔
اہل کاروں کا کہنا ہے کہ فی الوقت بجلی کی شدید قلت ہے اس لیے استعمال اس طرح کرنا چاہیے کہ بجلی خرچ کم ہو۔ سرکاری دفاتر میں شام ساڑھ چھ بجے کے بعد ائر کنڈیشنز بند کرنے اور عام لوگوں کو رات 10 بجے کے بعد اپنے گھروں کے ائرکنڈیشن بند رکھنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ ادھر ریاست اترپردیش میں بجلی کی قلت سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک نئے قانون کے تحت تمام دکانوں و تجارتی کمپلیکسز کو شام ساڑھے سات بجے کے بعد بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ شمالی انڈیا میں راجستھان، ہریانا، اترپردیش، بہار اور دلی جیسی ریاستوں میں اس وقت زبردست گرمی ہے اور بجلی کی کمی کے سبب عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جمعہ کے روز ریاست دلی کا درجہ حرارت 43 ڈگری سنٹی گریڈ تھا اور کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہی تھی۔ سپریم کورٹ نے دلی سرکار کو ایک نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ بجلی کی خراب حالت سے نمٹنے کے لیےوہ کیا اقدامات کر رہی ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا ہے کہ اگر ریاست میں بجلی کی یہی حالت رہی تو سنہ 2010 میں ہونے والے کامن ویلتھ کھیلوں کے دوران وہ بجلی کا بند و بست کیسے کرے گی۔ دلی میں بڑے پیمانے پر بجلی کی چوری ہوتی ہے جس سے بجلی کی تقسیم پر برا اثر پڑتا ہے۔ بعض افسران کے مطابق دلی میں تقریباً پیتیس فیصد بجلی چوری ہو جاتی ہے۔ | اسی بارے میں ڈیم احتجاج: میدھا کی حالت خراب 04 April, 2006 | انڈیا بھاشا ڈیم پر انڈیا کا احتجاج08 March, 2006 | انڈیا واجپئی کی دھمکی، بھارتی کا احتجاج29 November, 2005 | انڈیا مشترکہ فضائی مشقوں پر احتجاج07 November, 2005 | انڈیا بھارت: کمیونسٹوں کااحتجاج28 June, 2005 | انڈیا ’جو بولے سو نہال‘ پر احتجاج14 May, 2005 | انڈیا لوک سبھا کے سپیکر کا احتجاج07 April, 2005 | انڈیا کمپیوٹروں کے لیے شمسی توانائی02 September, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||