بھاشا ڈیم پر انڈیا کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا نے حکومتِ پاکستان سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میں بھاشا ڈیم کی مجوزہ تجویز کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ و زارت خارجہ کی طرف سے جاری کیۓ گۓ ایک بیان کے مطابق ہندوستان نے سفارتی ذرائع سے اپنے اعتراضات حکومت پاکستان تک پہنچا دیے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے یہ ڈیم ایک ایسے علاقے میں تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے ’جو جموں و کشمیر کا حصہ ہے اور جو 1947 کے الحاق کے نتیجے میں ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے‘۔ اس بیان میں ذرائع ابلاغ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مجوزہ ڈیم کے پانی کے ذخیرے سے ’ریاست جموں و کشمیر‘ کے شمال کا ایک بڑا علاقہ زیر آب جائے گا۔ حکومت پاکستان کے منصوبے کے مطابق بھاشا ڈیم گلگت میں چلاس اور بازین کے درمیان تعمیر کیا جانا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ہندوستان کی حکو مت نے اس ڈیم کے منصوبے کے اعلان کے کئی مہینے بعد کیوں احتجاج کیا ہے۔ اس بیان میں پاکستان کی بحریہ کے ساحلی محافظ جہاز ایم ایس ایس رحمت کی طرف سے حال میں مشکل میں پڑے ہوئے ایک ہندوستانی بحری جہاز کی مدد کے لیئےحکومت پاکستان کی ستائش کی گئی ہے۔ اطلاع کے مطابق 27 فروری کو کراچی کے جنوب مغرب میں سمندر میں تقریباً 170 میل کے فاصلے پر ہندوستانی جہاز ’فتح سلامت‘ کا انجن خراب ہو گیا تھا۔ پاکستانی جہاز نے ہندوستانی جہاز پر پھنسے ہوئے لوگوں کو نہ صرف کھانا اور پانی فراہم کیا بلکہ اس جہاز کو کھینچ کر بین الاقوامی سمندر میں پہنچایا جہاں سے اسے ہندوستانی بحریہ کے جہاز واپس ہندوستان لائے۔ | اسی بارے میں ڈیم تو بنیں گے: مشرف02 March, 2005 | پاکستان بھاشا ڈیم: نام اور رائلٹی پر تنازعہ28 January, 2006 | پاکستان کالاباغ کی سائیٹ یا کھنڈرات06 January, 2006 | پاکستان ’کالا باغ ڈیم کا اعلان جلد ہوگا‘29 December, 2005 | پاکستان کالاباغ کی مخالفت، بھاشا کی حمایت29 December, 2005 | پاکستان دریائےسندھ پر ڈیمز کے خلاف احتجاج18 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||