’ڈیم کے لیے شہر نہیں چھوڑیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مدھیا پردیش میں تقریباً بیس ہزار افراد نے حکومت کی طرف سے دی جانے والی مہلت کو نظر انداز کرتے ہوئے بدھ تک اپنا شہر چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہرسود کے باسیوں کو حکومت نے تنتبہ کی ہے کہ ان کا شہر اندرا ساغر ڈیم بننے کے بعد پانی میں ڈوب جائے گا۔ اسی دوران ریاستی پولیس کے مسلح اہلکار انتظامیہ کے شہر خالی کرانے کے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے دن بھر وہاں گشت کرتے رہے۔ ہرسود شہر ریاست کے دارالحکومت بھوپال سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ریاست میں دریائے نرمدا پر بننے والے اِندرا ساغر ڈیم کی تکمیل کے چند ہفتے کے اندر اندر یہ شہر پانی کے نیچے آ جائے گا۔ ہرسود کے باسیوں نے ڈیم کی تعمیر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی کوشش کی لیکن ریاست کے ہائی کورٹ نے منگل کے روز ان کو حکومت کی مہلت کے مطابق شہر خالی کرنے کا حکم دیا۔ حکام کا کہنا ہے فی الحال صرف پندرہ سو افراد ہرسود سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر چنیرہ منتقل ہوئے ہیں جسے ان کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ لیکن ہرسود کے اکثر باسیوں کا خیال ہے کہ چنیرہ میں روزگار کے زیادہ مواقع نہیں ہیں۔ جو لوگ چنیرہ منقتل ہوئے تھے انہوں نے پینے کے صاف پانی، بجلی اور صحت کے مراکز جیسی بنیادی سہولیات کی کمی کی شکایت کی ہے۔ ریاست کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے بجلی کی پیداوار میں ایک ہزار میگاواٹ کے اضافے کی ضرورت ہے جو اندرا ساغر ڈیم سے پوری کی جائے گی۔ ریاست کی وزیر اعلیٰ اُما بھارتی نے ہرسود کے شہریوں کے لیے مالی اعانت کا وعدہ کیا ہے۔ ریاست کے ایک وزیر کو متاثرین کو امداد کی فراہمی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ ریاست نے ڈیم کی مخالفت کرنے والے ایک سرکردہ کارکن میدھا پاٹکر سے بھی کہا تھا کہ وہ ہرسود کے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے پر آمادہ کریں۔ لیکن میدھا پاٹکر کا کہنا ہے کہ حکومت متاثرین کو زمین دینے کے وعدے سے پھر گئی ہے اور اب مالی اعانت کی بات کر رہی ہے جو بہت کم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||