بھارت: کمیونسٹوں کااحتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں بائیں بازو کی جماعتیں حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کر رہی ہیں۔ بائیں بازو کی چار جماعتیں مرکز میں کانگریس کی حکومت کو باہر سے حمایت دے رہی ہی۔ یہ جماعیتں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے ناراض ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے کچھ سرکاری کمپنیوں کو فروخت کرنے پر بھی اعتراض ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ پچھلے دروازے سے نج کاری کرنے کے مترادف ہے ان جماعتوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اس سلسلے میں ان کے اعتراض کو نظر انداز کیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کے مطابق حکومت کم از کم مشترکہ پروگرام کی خلاف ورزی کر رہی ہے اس لئے اس کی پالیسیوں میں تبدیلی کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ تاہم ان کا مقصد حکومت کو گرانا نہیں ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے نیشنل سیکریٹری ڈی راجہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے دریں اثناء بائیں بازو رہنماؤں کو منانے کی کوششیں بھی جاری ہیں ۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری پرکاش کارت سے فون پر بات کی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ کسی بھی موضوع پر کم از کم مشترکہ پروگرام کی خلاف ورزی نہیں کی گئی اور ان جماعتوں نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے وہ سونیا گاندھی کی واپسی کے بعد سلجھا لئے جائیں گے۔ اس وقت بائیں بازو کی جماعتیں پیٹرول کی قیمتوں میں ڈھائی روپئے فی لیٹر اضافہ سے ناراض ہیں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما ایس راما چندرن پلئی نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اضافہ جائز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے عام لوگوں کو پریشانی ہوگی اور اس سے دوسری اشیاء کی مجموعی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ پیر کو ریاست مغربی بنگال میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ٹرانسپورٹ یونینوں کی 24 گھنٹوں کی ہڑتال سے پوری ریاست مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||