اختلافات ضرور ہیں مگر خطرہ نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے تجزیہ نگار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اور کانگریس کے وزارء میں کچھ مسائل پر اختلاف پایا جاتا ہے لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ اختلاف اتنے شدید نہیں ہوئے کہ حکومت کو کوئی خطرہ ہو۔ بھارت میں سیاسی تجزیہ نگار ظفر آغا نے بی بی سی اردو سروس کے آصف جیلانی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بھارت کے اخبارات کانگریس کے رہنماؤں اور من موہن سنگھ اور حکومت اور بائیں بازو کی حکومت کی حامی جماعتوں میں اختلاف کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں لیکن پھر بھی سیاسی حالات حکومت کے قابو میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اخبارات میں اس طرح کی خبریں ہیں کہ کانگریس کے اہم رہنماؤں نے جن میں وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ، وزیرِ دفاع پرتاب مکرجی، وزیرِ داخلہ شیو راج پاٹل اور انسانی وسائل کے وزیر ارجن سنگھ شامل ہیں، اپنا الگ الگ گٹھ بنا لیا ہے اور وہ وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سے تعاون نہیں کر رہے۔ تاہم ظفر آغا کا کہنا تھا کہ اگرچہ وزراء اور وزیرِ اعظم میں اختلافات ہیں لیکن ان کی نوعیت شدید نہیں ہے۔ ’من موہن سنگھ نرسما راؤ کی حکومت میں بھی اقتصادی اصلاحات کے روحِ رواں تھے اور وہ اب بھی انہیں اصلاحات کے حامی ہیں اور انہیں پر زور دیتے ہیں لیکن کانگریس کے باقی وزیر کہتے ہیں کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو نقصان پہنچا تھا۔ لہذا ان کے خیال میں ان اصلاحات کو بہت تیزی سے نہیں لانا چاہیئے بلکہ ان پر آہستہ آہستہ عمل درآمد کرنا بہتر ہوگا۔‘ مبصرین کے مطابق کانگریس حکومت کو ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہے کہ مخلوط حکومت میں شامل بائیں بازو کی جماعتیں بھی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سے کئی معاملات پر اتفاق نہیں کرتیں۔ تاہم ظفر آغا کے خیال میں ان اختلافات کے باوجود بائیں بازو کی جماعتیں کانگریس کی حکومت کو گرانے کی کوئی کوشش نہیں کریں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی صورتِ حال میں کانگریس کی حکومت ختم کرانے کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار کے حصول میں آسانیاں پیدا کر دی جائیں۔ ’لیکن بائیں بازو کی جماعتیں ایسا ہر گز نہیں کر سکتیں کیونکہ وہ بی جے پی کو کمیونل پارٹی سمجھتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بائیں بازو کی جماعتوں کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سے جو بھی اختلافات ہیں وہ سیاسی اختلافات نہیں بلکہ اقتصادی یا معاشی اختلافات ہیں لہذا ابھی وہ جماعتیں من موہن سنگھ کی حکومت گرانے کی کوشش نہیں کریں گی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||