منموہن کڑی نکتہ چینی کی زد میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کی حلیف بائیں بازو کی جماعتوں نے امریکی صدر جارج بش کو دوبارہ منتخب ہونے کی مبارک باد دینے پروزیر اعظم منموہن سنگھ پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ ان پارٹیوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر جنگ جارج بش کے ذاتی مفاد کے لیۓ ہے جسکی تائید ہندوستان کو نہیں کرنی چاہیۓ۔ منموہن حکومت کی حمایتی ان جماعتوں نے مشورہ دیا ہے کہ حکومت کو چاہیۓ وہ بش انتظامیہ سے فاصلہ بنا کے رکھے اور ملک کے مفاد کی حفاظت کرے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر بش کا دوبارہ منتخب ہونا اس حیثیت سے انتہائی خطرناک ہے کہ عالمی رشتوں کے تعلق سے انکی جارحانہ و یکطرفہ پالیسیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ہندوستان میں عوام کی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل ہے کہ دہشت گردی کے خلاف صدر بش کی جنگ انکے خود کے مفاد کے لیۓ ہے۔اس لیۓ اس بات پہ زور دینا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم ایک دوسرے کے ساتھی ہیں غیردانشمندی ہے‘۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جارج بش کو مبارک باد دیتے ہوۓ اپنے خط میں لکھا تھا کہ دہشتگردی اورعام تباہی کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں ہندوستان پوری طرح انکے ساتھ ہے اور ان تمام مسائل کے حل کے لیۓ جو کوششیں ہورہی ہیں انکی قیادت سے کافی مدد ملے گی۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی نے منموہن سنگھ کے انہیں خیالات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بش کی قیادت میں امریکہ نے اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کی بے حرمتی کی ہے اور موجودہ حالات میں بش انتظامیہ کی مضر پالیسیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی نے عراق کے حوالے سے صدر بش پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہاہے کہ حکومت کو امریکہ کے ساتھ برابری کے ساتھ دوطرفہ مفاد دیکھنے چاہیئں۔ بایئں بازوکی جماعتوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے صلاح کاروں کے لیۓ یہی بہتر ہوگا کہ خارجہ پالیسی کے تعلق سے وہ ''کم سے کم مشترکہ پروگرام'' کی گائیڈ لائن کے مطابق ہی انہیں مشورہ دیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے کہا ہے کہ ''امریکہ کے انتخابات بوژوا جمہوریت اور دوپارٹی سسٹم کی جھلک پیش کرتے ہیں جہاں عوام کے پاس انتخاب کے لیۓ زیادہ کچھ نہیں ہے۔ جمہوریت کےتذکرے میں اس سسٹم کا ذکر ذرا مناسب بھی لگتا ہے''۔ پارٹی نے حکومت سے زور دیکر کہا ہے کہ وہ ایک ایسی آزاد خارجہ پالیسی پر عمل کرے جو سامراجیت کے خلاف ہو لیکن امن وسلامتی کے نظریات پر مبنی ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||