نئی انڈیا حکومت چیلنج اور مسائل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی نئی حکومت ممکنہ طور پر اعتدال پسندوں اور بائیں بازو کا اتحاد ہوگی اور اسے بہت سے مسائل اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک عام اور سیدھا سا جواب تو یہ ہے کہ نئی حکومت کے سامنے بھی سب سے بڑے چیلنج امن اور خوشحالی لانا ہوں گے۔ اس سے پہلے بھی تمام حکومتوں کے سامنے یہی سب سے بڑے مسائل ہوتے ہیں اور کسی بھی ایک حکومت کے لیے ایک مدت میں کم از کم خوشحالی کا معاملہ حل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم ان دونوں بڑے مسائل پر ترجیح اس معاملے کو ہوگی کہ سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریں پہلی بار اقتدار میں آ رہی ہے اور اس حوالے سے اس کا سب سے بڑا مسئلہ تو امورِ حکومت چلانا ہی ہو گا۔ اس کے علاوہ کانگریس جو کہ طویل عرصے تک انڈیا کی ایک بڑی اور با اثر پارٹی رہی ہے مخلوط حکومت کو چلانے کا تجربہ نہیں رکھتی۔ اس اعتبار سے مخلوط حکومت میں شامل دوسری سیاسی جماعتوں کے مسائل کو حل کرنا اور ان کے مطالبات پورے کرنا بھی ایک اہم مسئلہ ہو گا کیونکہ ہر جماعت کا اپنا ایک الگ ایجنڈا ہے۔ کانگریس اتحاد میں پندرہ جماعتیں شامل ہیں اور اب اس کی سربراہ کا سیاسی طور پر نہ تجربہ کار ہونا دشواریاں پیدا کر سکتا ہے۔
مخلوط حکومت میں کانگریس کی اہم شریک کمیونسٹ جماعتیں ہوں گی اور سب سے بڑا چیلنج بھی ان کے مطالبات ہوں گے۔ یہ کمیونسٹ جماعتیں حکومتی اداروں کی نجکاری کی اس پالیسی کی مخالف ہیں جس کا آغاز سابق حکومت نے کیا تھا اور جس کی حمایت کانگریس کے کئی لوگ بھی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں خاص طور پر ایئر انڈیا اور انڈین ائیر لائن کے حکومتی حصص کی فروخت ہے اور پھر تیل کی صنعت کی نجکاری کا معاملہ ہے۔ ان معاملات پر لوگ پہلے ہی بی جے پی حکومت کی شدید مخالفت کا اظہار کر چکے ہیں اور اب بھی جب ان معاملات کو اٹھایا جایا گا تو مخالفت ہو گی اور کمیونسٹ اس مخالفت کی حمایت کریں گے۔ کئی مبصرین اقتصادی معاملات کو زیادہ اہم قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کو عالمی رحجانات سے ہم آہنگی کے لیے جلد ہی تیل کی قیمتیں بڑھانا ہوں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||