’جو بولے سو نہال‘ پر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی ہندی فلم ’جو بولے سو نہال‘ کے خلاف سکھ برادری کے بعض گروہوں نے اعتراض کیا ہے۔ ریاست پنجاب کے اکثر شہروں میں سکھوں نے فلم کی نمائش کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم کے بعض مناظر اور مکالموں سے سکھ مذہب کی توہین ہوتی ہے۔ فلم کے ہیرو ہندی فلموں کے مشہور اداکار سنی دیول ہیں۔ لدھیانہ، امرتسر اور چندی گڑھ جیسے بڑے شہروں میں مظاہرین نے ان سنیما گھروں میں توڑ پھوڑ کی جہاں فلم کی نمائش چل رہی تھی۔ تشدد پر آمادہ لوگوں نے پتھراؤ کیا اور فلم کے پوسٹروں کو جلایا گیا ہے۔ بعض خبروں کے مطابق پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے سنیما ہالوں کی حفاظت کے لیے بہت سے مقامات پر پولیس کو تعنیات کیا ہے۔ سکھوں کی بعض مذہبی و سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ فلم کے ٹائٹل ’بولے سو نہال‘ کو غلط طریقے سے استعمال کیا گيا ہے۔ یہ جملہ سکھ میدان جنگ میں استعمال کرتے تھے۔ اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ ایک سکھ کو سگریٹ پیتے دکھایا گیا ہے جو سکھ مذہب کے منافی ہے۔ لیکن فلم کے ہدایتکار اور پروڈیوسر نے اس کی تردید کی ہے۔ فلم کے ایک پرڈیوسر پونٹی چڈھا کا کہنا ہے کہ فلم دیکھے بغیر ہی لوگوں نے ردِعمل ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہدایتکار راہول رویل کا کہنا ہے کہ فلم کو سکھوں کی اعلیٰ مذہبی قیادت اکال تخت نے دیکھنے کے بعد منظوری دی ہے۔ لیکن جو گروپ اس فلم کی مخالفت کر رہے ہیں انہوں نے ان پر بھی سولیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آخر جتھےدار نے اس فلم کی نمائش کی اجازت کیسے دی ہے۔ اسی دوران سکھوں کی ایک اور تنظیم شرومنی گرودوارہ پربندھک نے اس معاملے میں فلم سینسر بورڈ کو بھی ایک خط لکھا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||