BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 February, 2005, 10:31 GMT 15:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ گوانتانامو‘ اب لاہور میں

اسٹیج ڈرامہ ’ گوانتانامو‘
وکٹوریا برٹین اور جیلیان سلاوو کا لکھا ہوا یہ کھیل ایک ڈاکیو ڈرامہ ہے
گوانتانامو کے قیدیوں پر لکھا گیا اسٹیج ڈرامہ ’ گوانتانامو‘ لندن کے مضافات سے شرو ع ہو کر مقبول عام ہوا اور اب لاہور بھی پہنچ گیا ہے۔

لاہور گرامر سینئر بوائز سکول کے پندرہ سے اٹھارہ سال کے بچوں نے انگلش زبان کے اس سنجیدہ اور مشکل کھیل کو بڑے شوق اور جذبہ سے پیش کیا ہے۔

الحمرا میں ہفتہ اور اتوار کو پیش کیے جانے والے اس انگریزی ڈرامہ کو لندن سے لانے والے اس ڈرامے کے ہدایتکار عمیر رانا ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے لندن میں یہ کھیل دیکھا تو وہ اس سے بہت متاثر ہوئے کیونکہ اس میں جو کچھ گوانتانامو بے کے قیدیوں کے بارے میں دکھایا گیا ہے وہ پاکستان سے متعلق بھی ہے اور بہت کچھ سوچنے پر اکساتا ہے۔

گوانتانامو کے ان قیدیوں کو جنگی قیدیوں کا مرتبہ نہیں دیا گیا اور اقوام متحدہ کے جنیوا کنونشن کےمطابق قیدیوں کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔

وکٹوریا برٹین اور جیلیان سلاوو کا لکھا ہوا یہ کھیل ایک ڈاکیو ڈرامہ ہے جس میں اخباری بیانات، خطوط اور پریس کانفرنسوں کو جوڑ کر ایک صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے۔

اس میں گوانتانامو کے قیدیوں کو اپنی صورتحال پر خود کلامی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو ان کے خطوط اور انٹرویوز سے لی گئی ہے۔ عمیر رانا کا دعوی ہے کہ اس کھیل میں جو کچھ بھی کہانی کے طور پر پیش کیا گیا ہے وہ سو فیصد سچائی پر مبنی ہے۔

تقریباً دو گھنٹے کے اس کھیل میں گوانتانامو کے قیدیوں کے انٹرویوز اور ان کے اہل خانہ کے انٹرویوز کو جوڑ کے، ان کے وکیلوں کے نقطہ نظر کو بیان کرکے اور برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا اور امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ کی پریس کانفرنسوں کی نقل کرکے ایک کہانی بنائی گئی ہے۔

ایک موقع پر ڈونلڈ رمسفیلڈ گوانتانامو کے قیدیوں کو آٹھ ضرب آٹھ فٹ کی کوٹھڑیوں میں رکھنے کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گوانتانامو کا موسم افغانستان سے بہت فرق ہے اور یہاں کا موسم بہت خوبصورت ہے۔ یوں کھیل میں گوانتامو کا دفاع کرنے والوں کے دلائل کی بے رحمی اور بے وزنی کو اجاگر کر کے ان کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

کھیل کی آرٹ ڈائریکٹر عالیہ ریاض کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں پچاس سے زیادہ پاکستانی قیدی ہیں جن کے بارے میں ہمارے لوگوں کو بہت کم علم ہے۔ اس کھیل کے ذریعے ہم لوگو ں کو آگاہ کر سکتےہیں اور جب ہم اسے دیکھتے ہیں تو خود کو اس سے جڑا ہوامحسوس کرتے ہیں۔

لاہور گرامر سکول کے پچیس بچوں نے ایک ماہ سے زیادہ ریہرسل کر کے اس کھیل کو پیش کیا ہے۔ کھیل میں کام کرنے والے ایک کردار عمر آفتاب نے تو اس کھیل کے ایک کردار اور لندن کے وکیل مارک جیننگز کو انٹرنیٹ کے ذریعے ڈھونڈ کر ای میل بھی لکھ ڈالی کہ آپ کا حلیہ کیسا ہے اور آپ کچھ اپنے بارے میں بتائیں کیونکہ میں آپ کا کردار ادا کررہا ہوں۔ جس پر جیننگز نے انہیں تفصیل سے اپنے بارے میں آگاہ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد