خواتین فلم ہدایت کاروں کا فیسٹیول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں خواتین فلم ہدایت کاروں کا ایک فلم فیسٹیول فلم کے شوقین لوگوں کے لیے توجہ کا مرکز ہے۔ اس فیسٹیول میں دنیا بھر سے کئی مشہور فلم ہدایت کاروں کی انعام یافتہ فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جارہی ہیں۔ اسکا مقصد خواتین فلم ڈائریکٹرز کی تخلیقی صلاحیت کو ایک پہچان دینا ہے۔ دلی میں تہذیبی و ثقافتی پروگرام کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ لیکن آج کل خواتین ہدایت کاروں کے فلم فیسٹیول میں کافی بھیڑ ہے۔ اس فیسٹیول میں فیچر، دستاویزی، اینی میشن اور مختصر فلموں جیسی تقریباً ہر قسم کی فلمیں دکھائی جارہی ہیں۔ دلی میں اس فیسٹیول کی آرگنائزر صوفیہ قمرالدین نے بتایا کہ فیسٹیول میں بہت سے موضوعات پر فلمیں شامل کی گئی ہیں۔ انکا کہنا تھا ’بھارت سے جو فلم لی گئی ہے وہ خواتین میں ہم جنسی کے مسائل پر مبنی ہے۔ ’ہاؤ آئی کل مائی فادر‘ ایک باپ اور رشتے کے متعلق ہے۔ ’ہاؤ آئي بیکیم آ وومن‘ ایک ایرنی فلم ہے جس میں خاتون کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔’پیورٹی‘ ایک یہودی عورت کی کہانی ہے۔ اسکے علاہ دیگر موضوعات پر کئی اچھی فلمیں ہیں‘۔ اس فیسٹیول کااہتمام خواتین کے لیے کام کررہی ایک تنظیم پوائنٹ آف ویو اور خواتین کی ہی ایک امریکی تنظیم کریہ نے کیا ہے۔ اس موقع پر کریہ کی پروگرام کوارڈینیٹر کیرولائن ائرل نے بی بی سے بات جیت میں کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد خواتین کی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہے۔ کیرولائن نے کہا ’اگر آپ سے خواتین ڈائریکٹر یا تھیٹر میں لگي فلموں کے بارے میں پوچھا جائے تو اس میں سب نام مردوں ہی کے ہوں گے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ خواتین نے فلموں کے فروغ کے لیے کام نہیں کیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مردوں کے کام کو حمایت زیادہ ملی ہے۔ تو اس طرح کے فیسٹیول سے خواتین اور انکے کام کو ایک پہچان ملتی ہے۔ اور اسی لیے یہ فیسٹیول کیا گیا ہے‘۔ وومن فلم فیسٹیول ہر بار کسی نہ کسی فلمی شخصیت کے نظر کیا جاتاہے اور اس بار کا فیسٹیول مشہور اینی میشن فلم میکر لاٹ رینگا کے نام کیا گیا ہے۔ دلی کے علاوہ یہ فلمیں کولکتہ، بنگلور، پونے اور چینائی جیسے بڑے شہروں میں بھی دکھائی جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||