BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 September, 2004, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمپیوٹروں کے لیے شمسی توانائی
شمسی توانائی
بھارتی ریاست اتر پردیش میں بجلی کی بھاری قلت کی وجہ سے اب دیہی علاقوں کے پرائمری سکولوں میں شمسی توانائی سے کمپیوٹر چلانے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اتر پردیش میں دیہات اور شہر دونوں ہی بجلی کی قلت کا شکار ہیں۔ ایک تجزیے کے مطابق ریاست میں تقریباً اسی فیصد گھر بجلی سے محروم ہیں۔ سکولوں کا حال تو اس سے بھی برا ہے۔

ریاست میں کمپیوٹر کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے پچھلے سال تمام لوگوں کے لیے تعلیم کی مہم کے فنڈ سے تمام 70 ضلعوں میں تقریباً ایک ہزار پرائمری سکولوں کو کمپیوٹر دیے جانے کا ممنصوبہ بنایا گیا تھا۔

بچوں کو کمپیوٹر سکھانے کے لیے اساتذہ کو خاص تربیت دی گئی اور ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت کے تیار کیے ہوئے خصوصی کورس کا بھی استعمال کیا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود زیادہ تر سکولوں میں یہ کمپیوٹر بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے رہے۔

متبادل توانائی کے محکمے کے سربراہ جی بی پٹنایک کا کہنا ہے کہ بجلی کی صورتحال ایسی ہے کہ کمپیوٹروں کے لیے بجلی فراہم کرنا نہایت ہی مشکل ہے۔ اس لیے اب انہوں نے کمپیوٹروں کو شمسی توانائی پر چلانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ایک سکول میں اس تکنیک کا استعمال کرکے کمپیوٹر چلانے پر تقریباً ستر ہزار روپے کا خرچہ آنے کا امکان ہے، جبکہ آج کل کمپیوٹر پچیس تیس ہزار میں مل جاتے ہیں۔

News image

تمام لوگوں کے لیے تعلیم کو فروغ دینے کی مہم کے ڈائریکٹر پارتھاسارتھی سین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر آنے والا خرچہ متبادل توانائی کا محکمہ اور ان کا اپنا ادارہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا، ’شمسی توانائی میں بھلے ہی شروع میں خرچہ زیادہ ہو مگر اسے چلانے کا کوئی خرچہ نہیں ہوتا، اس لیے آگے چل کے یہ خرچہ زیادہ نہیں ہوگا۔‘

دریں اثناء بارابنکی ضلع کے کسان بھی شمسی توانائی استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دیوا شریف کے پاس ٹکراپٹی گاؤں کے نوجوان کسان گیانیشور ورما نے اب سے پندرہ سال پہلے اپنے سکول میں تعلیم کے لیے کمپیوٹر خریدا تھا۔ لیکن سکول میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا زیادہ فائدہ نہ ہو سکا۔

گیانیشور سیول اینجنئیرنگ کر چکے ہیں۔ انہوں نے سوچا کہ سکول کے احاطے میں کھیتوں تک پانی پہنچانے کے لیے لگے ہوئے شمسی پمپ سے کمپیوٹر بھی چلائے جا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ شمسی توانائی کی وجہ سے کسانوں کو روزگار کے نئے نئے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔

متبادل توانائی کے محکمے نے اب تک شمسی توانائی پر چلنے والے لالٹین، سٹریٹ لائٹ اور ہیٹروں کو فروغ دیا ہے لیکن اگر شمسی توانائی کو عام بجلی میں بدلنے کا منصوبہ کامیاب ہو گیا تو دیہاتوں میں نہ صرف کمپیوٹر کی تعلیم بلکہ روزگار کے دیگر مواقع بھی فراہم ہو سکیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد