ڈیم احتجاج: میدھا کی حالت خراب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نرمدا بچاؤ تحریک کی رہنما میدھا پاٹکر گزشتہ سات روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور ان کی حالت خراب ہوتی جارہی ہے۔ ہندوستان میں آبی وسائل کےمرکزی وزیر سیف الدین سوز نے ان سے ملاقات کر کے انہیں یقین دلایا ہے کہ حکومت مان سرور ڈیم کے آس پاس کے علاقوں کا جائزہ لے کر سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق متاثرہ لوگوں کی آبادکاری کرےگی۔ انہوں نے میدھا پاٹکر سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ میدھا پاٹکر نے بھوک ہڑتال ختم کرنےسے انکار کردیا ہے اور حکومت کی اس یقین دہانی کے بارے میں کہا ہے کہ ’میں حکومت کی رپورٹ کا انتظار کروں گی میرا مطالبہ ہے کہ رپورٹ عام کی جائے۔ جب تک اس پر عمل نہیں ہوتا میں بھوک ہڑتال جاری رکھوں گی‘۔ انکا کہنا تھا کہ اگر برسات سے پہلے متاثرین کی آباد کاری نہیں ہو پاتی تو پھر ڈیم کی تعمیر بند ہونی چاہیے۔ نرمدا بچاؤ تحریک کے سینکڑوں کار کن سردار سرور ڈیم کو مزید اونچا کرنے کے خلاف دلی میں گزشتہ کئی روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ ڈیم کی تعمیر سے ہزاروں لوگ متاثرہوئے تھے۔ حکومت نےان کی آباد کاری کا وعدہ کیا تھا جسے آج تک پورا نہیں کیا گیا اور ڈیم کو پھر اونچا کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں علاقے کے کئی گاؤں متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ مرکزی وزیر سیف الدین سوز نےگزشہ دو روز میں میدھا سے تین ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’اس بارے میں خود وزیراعظم کو تشویش ہے اور اسی لیے میرے ساتھ دو دیگر وزیر بھی علاقے دورہ کریں گے تا کہ آباد کاری کا کام اچھی طرح کیا جاسکے‘۔
سابق وزیراعظم وی پی سنگھ سمیت ملک کے کئی سیاسی رہنماؤں اور سرکردہ شخصیات نے پاٹکر سے ملاقات کی ہے اور ان کی حمایت میں وہ بھی دھرنے میں شامل ہیں۔ اس موقع پر مشہور ادیبہ ارون دھتی رائے نے کہا کہ ’یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جو لوگ گاندھیائی اصولوں کے تحت اپنے مطالبات رکھتے ہیں انہیں حکومت نظر انداز کر دیتی ہے جب کہ تشدد کے راستے پر چلنے والوں سے حکومت بات چیت کرتی ہے۔ لگتا ہے گاندھی کے ملک میں ستیہ گرہ اب بے معنی ہے جو لوگ پر امن طریقے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں حکومت انہیں سڑک پر پھینک دیتی ہے‘۔ جنتا دل یو کے رہنما شرد یادو نے میدھا سے ملنے کے بعد کہا کہ ’کوئی بھی ترقیاتی کام لوگوں کو اجاڑ کر نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پہلے متاثرین کی آباد کاری کا کام پورا کرے پھر ڈیم کی تعمیر کرے‘۔ بیس برس قبل سردار سرور ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا اور اس سے متاثرہ لوگوں کی باز آبادکاری کا وعدہ بھی کیا گیا تھا لیکن ابھی تک علاقے کے بہت سے لوگوں کو انتظامیہ کی مدد کا انتظار ہے۔ بجلی کی پیداوار کے لیے سردار سرور ڈیم کی تعمیر کا کام 1987 میں شروع ہوا تھا اور اب تک اس پروجیکٹ پر تقریبا تیرہ سو کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ | اسی بارے میں زلزلے سے اوڑی پراجیکٹ خطرے میں10 December, 2005 | انڈیا اعتراض کے باوجود بگلیہار پر کام جاری17 June, 2005 | انڈیا بھاشا ڈیم پر انڈیا کا احتجاج08 March, 2006 | انڈیا بگلیہار: ثالث جموں میں 01 October, 2005 | انڈیا بنگلہ، بھارت سرحد پرجھڑپیں 19 August, 2005 | انڈیا بگلیہار: ثالثی کے لیے تین نام29 April, 2005 | انڈیا بگلیہار پروجیکٹ پر بات چيت 04 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||