BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 April, 2006, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیم احتجاج: میدھا کی حالت خراب

میدھاپاٹکر
نرمدا بچاؤ تحریک کی رہنما میدھا پاٹکر گزشتہ سات روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں
نرمدا بچاؤ تحریک کی رہنما میدھا پاٹکر گزشتہ سات روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور ان کی حالت خراب ہوتی جارہی ہے۔

ہندوستان میں آبی وسائل کےمرکزی وزیر سیف الدین سوز نے ان سے ملاقات کر کے انہیں یقین دلایا ہے کہ حکومت مان سرور ڈیم کے آس پاس کے علاقوں کا جائزہ لے کر سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق متاثرہ لوگوں کی آبادکاری کرےگی۔ انہوں نے میدھا پاٹکر سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

میدھا پاٹکر نے بھوک ہڑتال ختم کرنےسے انکار کردیا ہے اور حکومت کی اس یقین دہانی کے بارے میں کہا ہے کہ ’میں حکومت کی رپورٹ کا انتظار کروں گی میرا مطالبہ ہے کہ رپورٹ عام کی جائے۔ جب تک اس پر عمل نہیں ہوتا میں بھوک ہڑتال جاری رکھوں گی‘۔ انکا کہنا تھا کہ اگر برسات سے پہلے متاثرین کی آباد کاری نہیں ہو پاتی تو پھر ڈیم کی تعمیر بند ہونی چاہیے۔

نرمدا بچاؤ تحریک کے سینکڑوں کار کن سردار سرور ڈیم کو مزید اونچا کرنے کے خلاف دلی میں گزشتہ کئی روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔

کارکنان کا کہنا ہے کہ ڈیم کی تعمیر سے ہزاروں لوگ متاثرہوئے تھے۔ حکومت نےان کی آباد کاری کا وعدہ کیا تھا جسے آج تک پورا نہیں کیا گیا اور ڈیم کو پھر اونچا کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں علاقے کے کئی گاؤں متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

مرکزی وزیر سیف الدین سوز نےگزشہ دو روز میں میدھا سے تین ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’اس بارے میں خود وزیراعظم کو تشویش ہے اور اسی لیے میرے ساتھ دو دیگر وزیر بھی علاقے دورہ کریں گے تا کہ آباد کاری کا کام اچھی طرح کیا جاسکے‘۔

میدھا پاٹکر
میدھا پاٹکر نرمدا بچاؤ تحریک کے کارکنوں کے درمیان

سابق وزیراعظم وی پی سنگھ سمیت ملک کے کئی سیاسی رہنماؤں اور سرکردہ شخصیات نے پاٹکر سے ملاقات کی ہے اور ان کی حمایت میں وہ بھی دھرنے میں شامل ہیں۔ اس موقع پر مشہور ادیبہ ارون دھتی رائے نے کہا کہ ’یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جو لوگ گاندھیائی اصولوں کے تحت اپنے مطالبات رکھتے ہیں انہیں حکومت نظر انداز کر دیتی ہے جب کہ تشدد کے راستے پر چلنے والوں سے حکومت بات چیت کرتی ہے۔ لگتا ہے گاندھی کے ملک میں ستیہ گرہ اب بے معنی ہے جو لوگ پر امن طریقے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں حکومت انہیں سڑک پر پھینک دیتی ہے‘۔

جنتا دل یو کے رہنما شرد یادو نے میدھا سے ملنے کے بعد کہا کہ ’کوئی بھی ترقیاتی کام لوگوں کو اجاڑ کر نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پہلے متاثرین کی آباد کاری کا کام پورا کرے پھر ڈیم کی تعمیر کرے‘۔

بیس برس قبل سردار سرور ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا اور اس سے متاثرہ لوگوں کی باز آبادکاری کا وعدہ بھی کیا گیا تھا لیکن ابھی تک علاقے کے بہت سے لوگوں کو انتظامیہ کی مدد کا انتظار ہے۔

بجلی کی پیداوار کے لیے سردار سرور ڈیم کی تعمیر کا کام 1987 میں شروع ہوا تھا اور اب تک اس پروجیکٹ پر تقریبا تیرہ سو کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں
بگلیہار: ثالث جموں میں
01 October, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد