BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 June, 2005, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعتراض کے باوجود بگلیہار پر کام جاری

بگلیہار ڈیم
بگلیہار پروجیکٹ دو مرحلوں میں تعمیر کیا جا رہا ہے
پاکستان کے اعتراضات کے باوجود جموں کشمیر میں دریائے چناب پر زيرِ تعمیر بگلیہار پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کا تقریبا پچھہتر فی صد کام مکمل ہو چکا ہے۔

اس مرحلے کے تحت ایک سال کے اندر بجلی کی پیداوار کا کام بھی شروع ہوجائے گا۔ بگلیہار ہائیڈروالیکٹرک پروجیکٹ ضلع ڈوڈہ میں دریائے چناب پر بن رہا ہے ۔ یہ پروجیکٹ 1999 میں شروع کیا گیا تھا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس کا اعتراض ہے کہ دریائے چناب پر ڈیم کی تعمیر سے دریا کے پانی کی روانی میں کمی آئے گی اور اسے مقررہ مقدار میں پانی نہیں مل سکے گا۔ جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس سے پانی کی روانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان نے عالمی بینک سے رجوع کیا ہے اور عالمی بینک کے معائنہ کار بگلیہار پروجیکٹ کا جائزہ لینےکے لیے ستمبر میں جموں کا دورہ کریں گے۔

ریاستی حکومت کے پاور ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے کچھ اعلی افسران کے مطابق اس پروجیکٹ پر کسی روکاوٹ کے بغیر کام جاری ہے۔

پروجیکٹ کے ایک انجینئر نے بتایا کہ’ موسم سرما میں کچھ مشکلات کے باوجود ہم نے اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کا تقریبا 75 سے 80 فیصد کام مکمل کر لیا ہے۔‘

بگلیہار پروجیکٹ دو مرحلوں میں تعمیر کیا جا رہا ہے اور پہلے مرحلے کی تکمیل پر 450 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جبکہ اسی مقدار کی بجلی دوسرے مرحلے میں بھی پیدا ہوگی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں ڈیم کی تعمیری کام تقریبا 65 فی صد تک مکمل ہو چکا ہے جب کہ پانی کی سرنگ کا کام مکمل ہونے کے قریب ہے۔

پاور ہاؤس میں لگنے والی مشینیں وہاں پہنچ چکی ہیں اور ان میں سے نصف کو لگایا بھی جاچکا ہے۔ پاور کارپوریشن کے تکنیکی سربراہ اے کے کول نے بتایا کہ ڈیم کی اونچائی 144.5 میٹر ہے جو معاہدے کے دائرے میں آتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ پروجیکٹ جون 2006 سے کام کرنا شروع کر دے گا ۔ اس پروجیکٹ پر تقریبا ایک ارب ڈالر خرچ ہوں گے ۔ اس منصوبے پر ایک ساتھ کئي کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور بجلی کا کام ایک جرمن کنسورشیم کے ہاتھ میں ہے۔

اس دوران پاکستان کے احتجاج کے باوجود ہندوستان کی مرکزی حکومت نے دریائےچناب اور اس کی معاون ندیوں پر پانچ اور ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے۔

نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن کے بعض اہلکاروں کے مطابق ریاستی حکومت کی درخواست کے مدّ نظر مرکز نے یہ نئے پروجیکٹس دریائے چناب پر بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور پاور کارپوریشن ان پروجیکٹس کی تفصیلی رپورٹ تیار کر رہی ہے۔

دریاے چناب پر ایک اور پروجیکٹ ’ ڈل ہستی‘ کا کام بھی مکمل ہو رہا ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پروجیکٹ ڈیڑھ سال کے اندر کام شروع کر دیگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد