بگلیہار: ثالث جموں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دریائے چناب پر زیر تعمیر متنازعہ بگلیہار پروجیکٹ کے معائنے کے لیے ورلڈ بینک کے مقرر کردہ ثالث جموں پہنچے ہیں۔ تین ماہرین پر مشتمل اس وفد کی قیادت مسٹر ریمنڈ لےفٹ کر رہے ہیں۔ امکان ہے کہ ڈیم کے معائنے کے بعد یہ وفد آئندہ ہفتے اپنی رپورٹ ورلڈ بینک کے حوالے کردے گا۔ جموں پہنچنے کے بعد مسٹر لےفٹ نےنامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’دونوں ملکوں نے اپنا اپنا موقف سامنے رکھا ہے جس کا باقاعدہ جائزہ لینے کے بعد ہی وہ کچھ کہہ سکتے ہیں‘۔ بھارت دریائے چناب پر ایک بڑا ڈیم تعمیر کررہا ہے لیکن پاکستان کو اس پروجیکٹ کے ڈیزائن پر اعتراض ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر انڈس آبی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ورلڈ بینک کی اس ٹیم کے ساتھ پاکستان کے انڈس ٹریٹی کے کمشنر سیّد جماعت علی سمیت دونوں جانب سے آٹھ افراد بھی اس وفد میں شامل ہیں۔ تین روزہ دورے میں ورلڈ بینک کی ٹیم دونوں جانب کے ماہرین کے ساتھ بگلیہار پروجیکٹ کا مکمل جائزہ لےگی۔ بگلیہار پروجیکٹ کے چیف انجینئر بی ایل گارو کا کہنا تھا ’ ہم نے ورلڈ بینک کی ٹیم کو پہلے ہی پوری تفصیل مہیّا کر دی تھی لیکن ٹیم بذات خود اس کامعائنہ کرنا چاہتی ہے‘۔ خبروں کے مطابق دونوں جانب کے ماہرین ٹیم کے سامنے اپنا اپنا موقف واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔
سیّد جماعت علی نے کہا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے انہیں اس وفد میں شامل ہونے کی دعوت ملی تھی اسی لیے وہ جموں پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا موقف واضح کرچکا ہے اور آزادانہ ماہرین کے فیصلے کا احترام کیا جائےگا۔ حال ہی میں پاکستانی وفد نے اس پروجیکٹ کا دورہ کرنے کے بعد جو رپورٹ ورلڈ بینک کودی تھی اس میں ایک بار پھر اس کے ڈیزائن پر اعتراض کیا گیا تھا۔ ورلڈ ٹیم کی ٹیم معائنہ کرنے کے بعد پیر کو دہلی کی طرف روانہ ہوگی اور دہلی ہی میں ٹیم اپنی رپورٹ ورلڈ بینک کے حوالے کرےگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||