زلزلے سے اوڑی پراجیکٹ خطرے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکتوبر آٹھ کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں دریائے جہلم پر بن رہے اوڑی دوئم پن بجلی (ہائیڈروالیکڑک) پراجیکٹ پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں- زلزلے سے ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لۓ ریاستی سرکار نے جموں یونیورسٹی کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل کی تھی جس نے اس ہفتے اپنی رپورٹ سرکار کو پیش کی ہے- ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر غلام محمد بٹ کے مطابق زلزلے سے اوڑی پروجکٹ کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے اور دریائے جہلم پر بنا ڈیم بھی زلزلے کی زد میں آیا ہے- ’جب ہم لوگ یہاں پہنچے تو ہم نے پایا کہ دریائے جہلم کے کنارے پر کافی موٹی موٹی دراڑیں پیدا ہو گئی ہیں-‘ ڈاکٹر بٹ کے مطابق کافی دور سے دیکھی جانے والی ان دراڑوں کی چوڑائی چھ سنٹی میٹر سے لے کرچھ میٹر تک ہے- اپنی رپورٹ میں اس تحقیقاتی ٹیم نے سرکار کو یہ تجویز بھی دی ہے کہ اس علاقے میں زمین کے اندر ہو رہی تبدیلیوں پر خاص نظر رکھنی ہوگی کیوں کہ اگر کسی مرحلے پر ڈیم کونقصان ہوا توہزاروں لوگوں کی جانیں جا سکتی ہیں- ’اس علاقے میں تقریبا 7600 افراد آباد ہیں جو ڈیم کے ٹوٹنے سے فوری طور پر متاثر ہو سکتے ہیں- اس کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں زرعی زمین اور جنگلات کو بھی کافی حد تک خطرہ لاحق ہے-‘ رپورٹ کے مطابق اوڑی، بارہ مولہ اور کپواڑہ کے کئی علاقوں میں دراڑوں سے پانی نکل رہا ہے جس سے ان علاقوں میں خوف و دہشت کا ماحول ہے- قرال پورہ علاقے میں 'لکوئیفیکیشن' کا کام شروع ہو گیا ہے ’اور کئی علاقوں میں زمیں سے کالی ریت نکل رہی ہے۔‘ ڈاکٹر بٹ کے مطابق جن علاقوں میں سروے کیا گیا وہاں سے تقریبا اٹھاون اعشاریہ ایک فی صد لوگ منتقل ہو جانےکے خواہاں ہیں- زلزلے سے تقریبا باسٹھ اعشاریہ ایک فیصد لوگوں پر منفی اثر پڑا ہے۔ ٹیم نے کنٹرول لائن پر بنے امن سیتو کو بھی منتقل کرنے کی تجویز دی ہے- پل کے دونوں جانب کافی نقصان پہنچا ہے اور بھارت کی طرف سے پل ایسی جگہ بنا ہے جس کے نچے ایک سبسیڈیئری فالٹ ہے- رپورٹ کے مطابق یہ پل فوری طور پر کسی دوسری جگہ منتقل ہونا چاہے- وہ کہتے ہیں: ’کمان پوسٹ کی طرف جا رہی سڑک بری طرح متاثر ہوی ہے۔‘ | اسی بارے میں برسوں بعد کشمیریوں کے رابطے19 October, 2005 | انڈیا ’زلزلہ زدگان کو نظرانداز کیا گیا‘20 October, 2005 | انڈیا پچیس ملین ڈالر کی بھارتی امداد 27 October, 2005 | انڈیا زلزلے کی گونج28 October, 2005 | انڈیا لائن آف کنٹرول ، لوگوں کا غصہ، ہوائی فائرنگ07 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||