BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 October, 2005, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلے کی گونج

’ایسا مریض نہایت ڈر کی حالت میں ہوتا ہے۔‘
اڑتیس سالہ سبھاش سنگھ نے کھانا ، پینا اور سونا بالکل چھوڑ دیا تھا کیوں کہ اسے اس بات کا اندیشہ تھا کہ وہ کبھی بھی مر سکتا ہے۔ اسکی حالت اس قدر بگڑ گئی کہ اسے اسپتال میں داخل کرانا پڑا جہاں سے وہ کچھ روز قبل ہی علاج کے بعد رخصت ہوا ہے۔

ہندوستان کے زیر انتظام جموں اور کشمیر میں مسٹر سنگھ ہی کی طرح دماغی بیماری والے سینکڑوں مریضوں کی تعداد سامنے آئی ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق آٹھ اکتوبر کے سانحے کے بعد شدید ذہنی الجھن سے پیدا ہونے والے اثرات کی علامت والے کئی مریضوں کے کیس سرینگر اور جموں میں سامنےآۓ ہیں۔

کٹھوہ علاقے کے باشندے سبھاش سنگھ اسی طرح کی بیماری کا شکار ہوئے ہیں۔ سبھاش کے ایک رشتےدار نے بتایا کہ ’وہ ایک زندہ بت میں تبدیل ہوگیا تھا اور اس نے بات چیت کرنا چھوڑ دیا تھا۔‘

جموں کے نفسیاتی امراض کے اسپتال کے ڈاکٹر چندر موہن نے سبھاش کی اس حالت کو سیپٹیسیما کا نام دیا ہے۔ ڈاکٹر موہن کا کہنا ہے کہ ’ایسا مریض نہایت ڈر کی حالت میں ہوتا ہے مریض کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسکی زندگی کسی بھی وقت ختم ہو جائے گی۔‘

راجوری علاقے کے عبدالحمید کے ساتھ بھی ایسا ہی کجھ ہوا ہے۔ زلزلے کی افراتفری میں گرنے کے سبب انہیں اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انکے دائیں پیر پر فا لج کا اثر ہو گیا ہے۔

جموں کے باشندے محمد فاروق زلزلے کے وقت سو رہے تھے اور انہیں زلزلے کا اس وقت پتہ چلا جب انکے پڑوسیوں نے چیخنا شروع کیا تھا۔ لیکن زلزلے کے بعد بھی دن بھر انہیں وہ چیخیں سنائی دی رہیں تھیں اور وہ پریشان ہو کر دوسرے گاؤں چلا گیا ۔ فاروق کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے انہیں بھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ زلزلہ کبھی بھی آسکتا ہے اور انکی جان جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر موہن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بیماری کا اثر بچوں میں بھی نظر آرہا ہے۔ ڈر کی ہی وجہ سے بچے اب اسکول جانے میں ہچکچا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے مریض بھی سامنے آئے ہیں جس میں لوگوں نے سننے میں دقت آنے کی شکایت کی ہے۔

نفسیاتی ماہرین کے مطابق ایسے مریضوں کے علاج کے لئے انکی کاؤنسلگ کی جاتی ہے اور بہت کم لوگوں کو دواؤں کی ضرورت پڑتی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق مستقبل میں اس طرح کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کے امکانات ہیں۔

زلزلہ اور بھارتی عوام
زلزلے پر بھارتی عوام کا ردعمل کم کیوں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد