بنگلہ، بھارت سرحد پرجھڑپیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دریائےمہا نندا کے کنارے بھارت اور بنگلہ دیش کے سرحدی محافظوں کے درمیان زبردست جھڑپیں ہوئی ہیں۔ بنگلہ دیشی اس دریا پر ایک بند تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ اسے روکنے کے لیے بی ایس ایف یعنی بارڈرر سکیورٹی فورسز کے جوانوں نےگولیاں چلائیں۔ جواب میں بنگلہ دیش رائفلز نے بھی فائرنگ شروع کردی۔ یہ دریا دونوں کی مشترکہ سرحد ہے۔ بھارت میں سرحد کی نگراں بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ دریائے مہا نندہ کے آس پاس کسی طرح کے بند کی تعمیر عالمی رسم کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کے باوجود بنگلہ دیش کےحکام نے بند کی تعمیر شروع بنگلہ دیش رائفلز نے بھی اسکے جواب میں فائرنگ شروع کی اور زوردار گولا ابھی تک کسی بھی جانب سے کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں آئی ہے۔ خبر رساں ایجینسی پی ٹی آئی کے مطابق دہلی میں بی ایس کے ایک سینئر افسر نے کہا ہے کہ اگرچہ وقتی طور پر فائرنگ بند ہوگئي ہے لیکن حالات کشیدہ ہیں۔ بی ایس ایف کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشی بند کی تعمیر پر مصرہیں اس لیے نگرانی کے لیے مزید فورس کو بلایا گياہے۔ بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ حالات کشیدہ ہیں اس لیے سرحد سے متصل بسےگاؤں کو خالی کروالیا گيا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دن میں کئی بار گولیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ اس سے قبل بھارت نے بھی ضلع مالدہ کے علاقے میں ایک بند تعمیر کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کو روکنے کے لیے بنگلہ دیش رائفلز نے بھی گولیاں چلائی تھیں۔ دریائےمہا نندہ پر بند تعمیر کرنے کا مقصد اپنی جانب پانی کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ سیلاب سے بچنے کے لیے دونوں ہی اسکی کوشش کرتے ہیں۔ دونوں کے درمیان سرحد پرکشیدگی اس وقت سے جاری ہے جب سے بھارت |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||