شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلّی |  |
 | | | ’فوج نے دراصل بے قصور کشمیریوں کو پکڑ کرگولی مار دی تھی‘ |
فرضی جھڑپوں کے قصوروار سی بی آئی ایک بریگیڈیئر سمیت پانچ فوجی افسروں کے خلاف پانچ معصوم کشمیریوں کے قتل کا مقدمہ درج کرنے والی ہے۔ قصور وار فوجیوں کے خلاف آئندہ چار دنوں میں فرد جرم داخل کر دی جائےگی۔ سن دو ہزار میں امریکہ کے صدر بل کلنٹن کے دورۂ انڈیا کےموقع پر انڈیا کے زیرِانتظام جموں کشمیر میں چھتیس سنگھ پورا کے علاقے میں مبینہ شدت پسندوں نے پینتیس سکھوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں فوج کے پانچ اعلٰی افسروں نے مارچ دو ہزار میں پتھری بل میں پانچ کشمیریوں کو یہ کہہ کر ہلاک کر دیا تھا کہ ’وہ غیر ملکی شدت پسند تھے اور انہی لوگوں نے سکھوں کا قتل عام کیا تھا‘۔ جب نزدیکی گاؤں کے باشندوں نے فوج کی جانب سے بےقصور لوگوں کو ہلاک کرنے کے خلاف احتجاج کیا تو فوج کی فائرنگ میں مزید دس کشمیری مارے گئے تھے۔ تین برس کی تفتیش کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ فوج نے دراصل بے قصور کشمیریوں کو پکڑ کرگولی مار دی تھی اور اس مبینہ جھڑپ کے لیئے بعض افسروں کو بہادری کا ایوارڈ دینے کی بھی سفارش کی گئی تھی۔ متنازعہ افسر گجرات پولیس کا سربراہ
 | | | گجرات فسادات میں متعدد افراد مارے گئے تھے | گجرات کے وزیرِاعلٰی نریندر مودی نےگزشتہ دنوں احمدآباد کے سابق پولیس کمشنر پی سی پانڈے کو ریاستی پولیس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ سنہ 2002 کے گجرات فسادات کے دوران کمشنر پانڈے کا کردار متنازعہ رہا تھا اور ان پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف فسادیوں کو کھلی چھوٹ دی اور کارروائی نہیں کی ۔فسادات کے بعد پی سی پانڈے کچھ دنوں کے لیئے سی بی آئی میں آ گئے تھے اور اس تقرری سے قبل وہ ریاست گجرات میں انسداد بد عنوانی بیورو کے سربراہ تھے۔ یاد رہے کہ سماجی کارکن تیستا سیتل واڈ کی درخواست کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا تھا کہ پی سی پانڈے کو فسادات سے متعلق کسی بھی عہدے پر فائز نہ کیا جائے۔ حریت رہنماؤں کی وزیرِاعظم سے ملاقات
 | | | حریت رہنماؤں نے پہلی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ | حریت کانفرنس کے رہنما مئی کے اوائل میں وزیرِاعظم منموہن سنگھ سے دلی میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس سے قبل ان رہنماؤں نے اکتوبر میں مسٹر سنگھ سے ملاقات کی تھی۔گزشتہ مہینوں میں حریت اور مرکزی حکومت کے تعلقات میں کچھ کشیدگی پیدا ہوئی تھی اور چند ہفتے قبل مسٹر سنگھ نے کشمیری رہنماؤں کے پہلی گول میز کانفرنس طلب کی تھی تو ان رہنماؤں نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ مسٹر سنگھ نے25 مئی کو سری نگر میں دوسری گول میز کانفرنس بلا رکھی ہے اور وزيرِاعظم کا دفتر کسی بھی طرح ان رہنماؤں کی شرکت چاہتا ہے۔ حریت رہنماؤں نے پہلے اجلاس میں شرکت کے لیئے کچھ شرطیں رکھی تھیں جن میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ شرکاء کی تعداد کم کی جائے۔ پہلے اجلاس میں جہاں 70 رہنما شریک ہوئے تھے جبکہ اس مرتبہ اطلاعات ہیں کہ یہ تعداد گھٹا کر 20 کی جا رہی ہے۔ حریت کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر کے بارے میں بات چیت سست رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ پرتھوی راج چوہان کی’آخری رسوم‘
 | | | شیر سنگھ رانا کو کولکتہ سے گرفتار کیا گیا | سابقہ ڈاکو پھولن دیوی کے قتل کے مفرور ملزم شیر سنگھ رانا کواس ہفتے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ رانا کا دعوٰی ہے کہ وہ جیل سے فرار ہونے کے بعد ایک جعلی پاسپورٹ کی مدد سے افغانستان گئے اور وہاں سے’ آخری راجپوت بادشاہ‘ پرتھوی راج چوہان کی یادگار سے ان کی مٹی لا کر انڈیا میں باقاعدہ آخری رسوم ادا کیں۔پرتھوی راج کو مسلمان بادشاہ محمد بن غوری نے 1192 میں ترائن کی جنگ میں شکست دی تھی۔چوہان کی موت کے بارے میں کئی روایتیں ہیں لیکن رانا کا کہنا ہے کہ پرتھوی راج چوہان کو غزنی کے نواح میں واقع دیک گاؤں میں دفن کیا گیا تھا اور انہوں نے اس مقام کو کھود کر گہرائی سے مٹی نکالی اور اپنے آبائی مقام اٹاوہ میں دفن کر کے وہاں ایک یادگار بھی بنائی ہے۔ بسم اللہ خان کی تمنا
 | | | شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان | شہنائی کے شائقین میں سے کس نے بسم اللہ خان کا نام نہیں سنا ہوگا۔ شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان اب نوے برس کے ہو چکے ہیں۔ ان کی یہ تمنا تھی کہ وہ دلی کے انڈیا گیٹ پر شہنائی کا جادو جگا سکیں۔ حکومت نے ان کی اس تمنا کی تکمیل کے لیئے انڈیا گیٹ پر تقریبات سے ایک دن کے لیئے پابندی ہٹائی ہے اور استاد بسم اللہ خان اب ستائیس جولائی کو اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ اس سے قبل وہ اگست دو ہزار تین میں پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں بھی اپنی شہنائی کا جادو جگا چکے ہیں۔بیوی کا تنازعہ
 | | | بالی ووڈ کے مقبول گلوکار ادت نارائن | بالی ووڈ کے مقبول گلوکار ادت نارائن کوگزشتہ دنوں پٹنہ کےایک ہوٹل میں اس وقت زبردست مشکل کا سامنا ہوا جب رنجنا نام کی ایک خاتون نے یہ دعوٰی کیا کہ وہ ادت نارائن کی پہلی بیوی ہیں۔ ادت اپنی بیوی دیپا نارائن کے ساتھ وہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ادت کا کہنا ہے کہ وہ اس خاتون سے کبھی نہیں ملے ہیں جبکہ رنجنا کا کہنا تھا کہ انہوں نے ادت سے 1984 میں اس وقت شادی کی تھی جب ادت کو شہرت نہیں ملی تھی۔ ادت کا کہنا ہے کہ وہ صرف پیسے حاصل کرنے کے لئے ’بلیک میل‘ کر رہی ہیں اور’ اگر وہ میری بیوی ہے تو اتنے برسوں تک وہ کہاں تھی‘۔ |