دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسم فروشی قانونا صحیح ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حالیہ جنسی اسکینڈل کے درمیان یہ معلوم ہوا ہے کہ پورے جنوبی ایشیا میں جموں و کشمیر واحد خطہ ہے جہاں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ریاستی حکومت اب اس پرانے قانون کو ختم کرنے جارہی ہے۔ سن 1921کے پبلک پراسٹیچیوٹس رجسٹریشن قانون کے تحت کوئی بھی سیکس ورکرضلع مجسٹریٹ کے دفتر میں ایک درخواست فارم بھر کر پانچ روپے کی فیس کے ساتھ خود کو درج کرا سکتا ہے اور قانونی طور پر جسم فروشی کا کاروبار کرسکتا ہے۔ کشمیر بار ایسوسی ایشن نے مفاد عامہ کی ایک عذرداری میں اس قانون کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔ انگریز ڈرائیور اب دلی کی حکومت نے دارالحکومت کے ٹیکسی ڈرائیوروں کو انگریزی سکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ چار برسوں میں دلی کے سبھی آٹو اور ٹیکسی ڈرائیور کو انگریزی کا یہ کورس کریں گے۔
ہند پاک غیرسرکاری تجارت جائزے کے مطابق گزشتہ مالی برس میں دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری طور پر 70 کروڑ ڈالر کی تجارت ہوئی۔ اس کے برعکس غیرسرکاری تجارت میں 37 فی صد کا اضافہ ہوا ہے اور وہ تقریبا ایک ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ غیرسرکاری تجارت عموما کسی تیسرے ملک کے توسط سے اور اسمگلنگ کے ذریعے ہوتی ہے۔ سیاحت کی دھوم
موبائل پر راحت ان کمپنیوں کے نمائندے کبھی ایس ایم ایس تو کبھی کالز کے ذریعے صارفین کو تنگ کرتے ہیں۔ اب صارفین کی عدالت نے موبائل کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ صارفین کے موبائل نمبر اور تفصیلات کسی کو بھی فراہم نہ کریں۔ اگر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو ان کے لائسنس تک کینسل ہوسکتے ہیں۔ انگریزی کا بول بولا لیکن بعض طلبہ انگریزی کے بجائے ہندی میڈیم اختیار کرتے ہیں۔ لیکن ان طلبہ کو نہ صرف یہ کہ ہندی میں لیکچر دینے والا کوئی نہیں ہوتا بلکہ اکثر نصابی کتابیں بھی ہندی میں نہیں ملتیں۔ صورتحال اس حد تک مشکل ہوگئی ہے کہ مفاد عامہ کی ایک درخواست پرگزشتہ دنوں دلی ہائی کورٹ نے دلی یونیورسٹی کو حکم دیا ہے کہ وہ ہندی میں نصابی کتابوں کی دستیابی کو یقینیی بنائے۔ |
اسی بارے میں دلّی دھمال، سپروائزر صدر اور نیند میں طلاق02 April, 2006 | انڈیا کارٹون اور مسلم سیاست19 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا بش ریلی، مادھوری، امرسنگھ اور جسیکا26 February, 2006 | انڈیا مصوری، شاہی شادی اور صدر بش کے کھانے 19 February, 2006 | انڈیا حکومت کی خارجی مصیبت 12 February, 2006 | انڈیا ہوائی اڈوں کی نج کاری کا مسئلہ05 February, 2006 | انڈیا ہندوستان تیسری بڑی معیشت29 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||