BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 July, 2006, 08:59 GMT 13:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہر ممنوعہ، ہاسٹل میں جرائم، ایڈز کیلیئے ٹماٹر

متوسط طبقے کے لیئے دلی اب شہر ممنوعہ بن چکا ہے
مکان متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر

ممبئی اور دلی جیسے شہروں میں زمین کی قلت کے سبب زمین اور مکان اتنے مہنگے ہیں کہ صرف امیر ہی انہیں خریدنے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔

دارالحکومت دلی میں حکومت نے ایک ڈیویلپمنٹ اتھارٹی قائم کر رکھی ہے جو پہلے مکان بنا کو متوسط طبقے کو مارکیٹ سے کم داموں پر فروخت کیا کرتی تھی۔ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تعمیر شدہ فلیٹ نیلام کیئے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دلی میں گھر کا خواب متوسط طبقے کے لیئے اب صرف خواب ہی رہے گا۔

دلی میں دو بیڈ روم کے گھر کی قیمت پہلے ہی چالیس‎ سے ساٹھ لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے اور قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اندازہ ہے کہ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی جو مکان بیس لاکھ روپے پر فروخت کرتی تھی وہی مکان وہ نیلامی کے ذریعےاب ساٹھ اور ستر لاکھ روپے میں فروخت کرے گی۔ متوسط طبقے کے لیئے دلی اب شہر ممنوعہ بن چکا ہے۔

قید کا معاوضہ

قید کا معاوضہ
بیشتر غریب اور بے نام ان قیدیو ں کی کسی کو فکر نہیں ہوتی
ہندوستان کی جیلوں میں سینکڑوں پاکستانی بھی قید ہیں۔ ان قیدیوں میں بڑی تعداد ایسے قیدیوں کی ہوتی ہے جو نادانستہ طور پر بھٹک کر ہندوستان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ان غریب اور بے نام قیدیو ں کی کسی کو فکر نہیں ہوتی۔ انہیں ایک ساتھ کئی کئی ’جرائم‘ کی سزا ئیں دی جاتی ہیں۔ ان کے مصائب صرف وہی جانتے ہیں ۔ لیکن ان قیدیوں کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اکثر سزاؤں کی مدت کاٹنے کے بعد بھی انہیں برسوں تک رہا نہیں کیاجاتا۔
لیکن مفاد عامہ کی ایک عذرداری کی سماعت کے بعد پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے مرکز اور ریاست کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ایسے قیدیوں کو معاوضہ ادا کریں۔

اب ہر قیدی کو ایک سال کی اضافی قید کے لیئے دس ہزار روپے فی برس کے حساب سے معاوضہ دیا جائے گا۔ پچھلے دنوں پنجاب میں ایسے گیارہ پاکستانی شہریوں کو معاوضہ دیا گیاہے۔ لیکن برسوں تک ان قیدیوں کو کسی قصور کے بغیر قید میں رکھنے والے کسی افسر کی سزا توکیا سرزنش بھی نہیں کی گئی۔

ہوسٹل یا جرائم کے اڈے

ہوسٹل یا جرائم کے اڈے
پولیس ہوسٹل سے کئی جرائم پیشہ افراد کو پستولوں کے ساتھ گرفتار کر چکی ہے
بہار میں یونیورسٹیوں کے اکثر ہوسٹل جرائم پیشہ افراد کی گرفت میں ہیں۔ گزشتہ ستمبر میں ایک بم دھماکے کے بعد پولیس نے ایک ہوسٹل میں بم اور ہتھیار بنانے کا کارخانہ پکڑاتھا۔ پولیس ہوسٹل سے کئی جرائم پیشہ افراد کو پستولوں کے ساتھ گرفتار کر چکی ہے۔ کئی ہوسٹل ایسے ہیں جہاں اس طرح کی غنڈہ گردی ہے کہ ان ہوسٹلز کے وارڈنز کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا ہے۔ صورتحال اتنی مشکل ہوگئی ہے کہ یونیورسٹی اور کالج کے حکام کے لیئے اس طرح کے عناصر سے ہوسٹل خالی کرانا مشکل ہو گیا ہے۔

اب پٹنہ یونیورسٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے تعلیمی سال سے ہوسٹل میں رہنے والے تمام طلبا کو اپنی انگلیوں کے نشان کی پانچ کاپیاں جمع کرانی ہوں گی، جس میں سے ایک نقل قریبی پولیس سٹیشن میں بھی دینی ہوگی۔ یہی نہیں طلبا کو ہوسٹل میں رہنے کے لیئے اپنے قد کا ناپ، خون کا گروپ، شناختی نشان، اور ٹیلی فون نمبر جیسی ذاتی تفصیلات بھی مہیا کرنی ہوں گی۔

یونیورسٹی کے حکام نے پولیس کی مدد سے غیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کو باہر نکالنے کی مہم شروع کردی ہے۔ ان میں سے کئی ایسے تھے جو ہوسٹل سے بزنس اور پراپرٹی وغیرہ کا کاروبار کرتے تھے۔

فلم سٹارز کو ٹیکس نوٹس

سیف
سیف سمیت کئی سٹارز کو نوٹس بھیجے جارہے ہیں
مختلف مصنوعات کے اشتہارات کرنے والے فلم اداکاروں کو ایڈورٹائزمنٹ کرنے کے لیئے کروڑوں روپے ملتے ہیں اور انہیں اس آمدنی کا تقریبًا بارہ فیصد حصہ سروس ٹیکس کے طور پر ادا کرنا ہوتا ہے۔

سروس ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے عامر خان اور سنی دیول جیسے بہت سے فلم سٹارز کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا جنہوں نے اشتہاروں سے کروڑوں روپے کمانے کے باوجود سروس ٹیکس میں اپنا نام درج نہیں کرایا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے انکم ٹیکس رٹرنز نہیں بھرے ہیں ان میں سیف، اجے دیوگن اور کاجول، ارملا متوننڈکر، نانا پاٹیکر اور زاہد خان جیسے ستاروں کے نام لیئے جارہے ہیں۔ ان سبھی کو نوٹس بھیجے جارہے ہیں۔

لیکن شاہ رخ خان، رتیک روشن، امیتابھ اور ابھیشیک بچن، رانی مکھرجی اور سچن تندولکر جیسے فلم اور سپورٹ سٹارز نے کئی بار کی یاد دہانی کے بعد ٹیکس کے لیئے اپنا نام درج کرایا ہے۔

ٹماٹر کے کھیتوں میں ایڈز کے ٹیکے

ٹماٹر
سائنسدان ایڈز جیسی مہلک بیماریوں سے لڑنے والے ٹماٹروں کی تیاری میں
سائنسدانوں کی کوشش اگر کامیاب ہوئی تو جلد ہی ٹماٹر کے کھیتوں میں ہیپاٹائٹس بی اور ایڈز جیسی مہلک بیماریوں سے لڑنے والے ٹیکے کھیتوں میں اگائے جائیں گے۔ روس کے ’ارکوتسک‘ شہر میں سائبیرین انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ اینڈ بائیوکیمسٹری کے شعبے میں پروفیسر رورک سالیو اور ان کے ساتھیوں نے زمین میں پائے جانے والے ’ایگروبیکٹیریم‘ کی مدد سے ایسے ٹماٹر اگائے ہیں جس میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی جیسی بیماریوں سے لڑنے والے پروٹین موجود ہیں۔ یہ پروٹین ایک ٹیکے کا کام کریں گے اور اب لوگ ایسی دوا انجکشن کے بجائے کھانے کے ذریعے بھی لے سکتے ہیں۔

اگر سائنسدان اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہوگئے تو اس سے سب سے زیادہ فائدہ ان غریب افراد کو ہوگا جو ایڈز جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں لیکن اس سے لڑنے والی مہنگی دوائیں نہیں خرید سکتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد