شہر ممنوعہ، ہاسٹل میں جرائم، ایڈز کیلیئے ٹماٹر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مکان متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ممبئی اور دلی جیسے شہروں میں زمین کی قلت کے سبب زمین اور مکان اتنے مہنگے ہیں کہ صرف امیر ہی انہیں خریدنے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ دارالحکومت دلی میں حکومت نے ایک ڈیویلپمنٹ اتھارٹی قائم کر رکھی ہے جو پہلے مکان بنا کو متوسط طبقے کو مارکیٹ سے کم داموں پر فروخت کیا کرتی تھی۔ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تعمیر شدہ فلیٹ نیلام کیئے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دلی میں گھر کا خواب متوسط طبقے کے لیئے اب صرف خواب ہی رہے گا۔ دلی میں دو بیڈ روم کے گھر کی قیمت پہلے ہی چالیس سے ساٹھ لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے اور قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی جو مکان بیس لاکھ روپے پر فروخت کرتی تھی وہی مکان وہ نیلامی کے ذریعےاب ساٹھ اور ستر لاکھ روپے میں فروخت کرے گی۔ متوسط طبقے کے لیئے دلی اب شہر ممنوعہ بن چکا ہے۔ قید کا معاوضہ
لیکن مفاد عامہ کی ایک عذرداری کی سماعت کے بعد پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے مرکز اور ریاست کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ایسے قیدیوں کو معاوضہ ادا کریں۔ اب ہر قیدی کو ایک سال کی اضافی قید کے لیئے دس ہزار روپے فی برس کے حساب سے معاوضہ دیا جائے گا۔ پچھلے دنوں پنجاب میں ایسے گیارہ پاکستانی شہریوں کو معاوضہ دیا گیاہے۔ لیکن برسوں تک ان قیدیوں کو کسی قصور کے بغیر قید میں رکھنے والے کسی افسر کی سزا توکیا سرزنش بھی نہیں کی گئی۔ ہوسٹل یا جرائم کے اڈے
اب پٹنہ یونیورسٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے تعلیمی سال سے ہوسٹل میں رہنے والے تمام طلبا کو اپنی انگلیوں کے نشان کی پانچ کاپیاں جمع کرانی ہوں گی، جس میں سے ایک نقل قریبی پولیس سٹیشن میں بھی دینی ہوگی۔ یہی نہیں طلبا کو ہوسٹل میں رہنے کے لیئے اپنے قد کا ناپ، خون کا گروپ، شناختی نشان، اور ٹیلی فون نمبر جیسی ذاتی تفصیلات بھی مہیا کرنی ہوں گی۔ یونیورسٹی کے حکام نے پولیس کی مدد سے غیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کو باہر نکالنے کی مہم شروع کردی ہے۔ ان میں سے کئی ایسے تھے جو ہوسٹل سے بزنس اور پراپرٹی وغیرہ کا کاروبار کرتے تھے۔ فلم سٹارز کو ٹیکس نوٹس
سروس ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے عامر خان اور سنی دیول جیسے بہت سے فلم سٹارز کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا جنہوں نے اشتہاروں سے کروڑوں روپے کمانے کے باوجود سروس ٹیکس میں اپنا نام درج نہیں کرایا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے انکم ٹیکس رٹرنز نہیں بھرے ہیں ان میں سیف، اجے دیوگن اور کاجول، ارملا متوننڈکر، نانا پاٹیکر اور زاہد خان جیسے ستاروں کے نام لیئے جارہے ہیں۔ ان سبھی کو نوٹس بھیجے جارہے ہیں۔ لیکن شاہ رخ خان، رتیک روشن، امیتابھ اور ابھیشیک بچن، رانی مکھرجی اور سچن تندولکر جیسے فلم اور سپورٹ سٹارز نے کئی بار کی یاد دہانی کے بعد ٹیکس کے لیئے اپنا نام درج کرایا ہے۔ ٹماٹر کے کھیتوں میں ایڈز کے ٹیکے
اگر سائنسدان اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہوگئے تو اس سے سب سے زیادہ فائدہ ان غریب افراد کو ہوگا جو ایڈز جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں لیکن اس سے لڑنے والی مہنگی دوائیں نہیں خرید سکتے۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: ملا کی سیاست اور مونسون کی آمد21 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||